بنگلہ دیش: ’حملہ آوروں کا تعلق مقامی شدت پسند تنظیم سے تھا‘

،تصویر کا ذریعہEPA
بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ڈھاکہ میں جمعے کی رات شدت پسند حملہ کرنے والے حملہ آوروں کا تعلق دولت اسلامیہ سے نہیں بلکہ مقامی شدت پسند تنظیم جميعت المجاہدین بنگلہ دیش سے تھا۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ اسد الزمان خان نے کہا: ان کا (حملہ آوروں کا) دولت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
٭ <link type="page"><caption> دوراہے پر کھڑا بنگلہ دیش</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/07/160702_bangladesh_at_crossroads_sq" platform="highweb"/></link>
اس سے پہلے عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے مبینہ حملہ آوروں کی اپنے پرچم کے ساتھ کچھ تصاویر جاری کی تھیں۔
بنگلہ دیش نے دارالحکومت ڈھاکہ کے کیفے میں شدت پسندوں کے ہاتھوں مرنے والوں کے لیے دو دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
جمعے کو کیے جانے والے اس حملے میں 20 یرغمالی ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر غیر ملکی باشندے تھے۔ اس میں دو پولیس اہلکا بھی ہلاک ہوئے جبکہ دوسرے 30 زخمی بھی ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAP
دو دنوں کے قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ملک میں دہشت گردی سے لڑنے کا عہد کیا۔
انھوں نے کہا: ’جو کوئی بھی مذہب میں یقین رکھتا ہے ایسے عمل نہیں کرے گا۔ ان کا کوئی مذہب نہیں۔ ان کا مذہب صرف دہشت گردی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنیچر کو بنگلہ دیش کے کمانڈوز نے 12 گھنٹے کے محاصرے کے بعد 13 افراد کو بچایا۔ انھوں نے چھ مسلح حملہ اوروں کو ہلاک کیا جبکہ ایک کو گرفتار کیا۔
مرنے والوں میں نو اطالوی، سات جاپانی، ایک امریکی، ایک ہندوستانی باشندے شامل تھے جبکہ ایک اطالوی لاپتہ ہیں۔
دریں اثنا زندہ بچنے والوں سے تازہ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ارجنٹائن کے شیف ڈیئگو روسینی نے بتایا کہ جمعے کی شام ہولی آرٹیسین بیکری میں کس طرح حملہ آور بموں اور بندوقوں کے ساتھ داخل ہوئے۔
’مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا ہے کہ ایسا ہوا۔ یہ کسی فلم کی طرح تھا۔ انھوں نے میری طرف بندوق کی اور میں گولی چلنے کی آوازیں اپنے آس پاس سن رہا تھا۔ میں بہت زیادہ خوفزدہ تھا۔‘
انھوں نے کہا وہ کیفے کی چھت پر بھاگنے اور پھر وہاں سے دوسری عمارت میں کودنے سے بچ گئے۔
اطالوی تاجر جیانی بوشیٹی حملے سے قبل ایک فون کال کے لیے کیفے کے گارڈن میں چلے گئے تھے۔ انھوں نے جھاڑیوں میں کود کر خود کو بچایا۔ ان کی سالی نے اطالوی ٹی کو بتایا کہ وہ کس طرح ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال اپنی اہلیہ کی تلاش میں بھاگ رہے تھے اور بالآخر انھیں مردوں میں پایا۔

میبنہ طور پر شدت پسندوں نے ان لوگوں پر اذیتیں دی اور قتل کیا جو قرآن کی آیات نہیں پڑھ سکے۔
ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ تیز دھار والے ہتھیار سے لوگوں کو بے دردی کے ساتھ حملہ کیا گیا۔
جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ نے حملے میں شامل پانچ افراد کی تصاویر دولت اسلامیہ کے سیاہ پرچم کے ساتھ پوسٹ کی ہیں۔







