مسلم خواتین کو برابری کیوں نہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

کچھ دنوں پہلے بھارت میں پچاس ہزارمسلم خواتین نے قومی کمیشن برائے خواتین کےادارے سے ایک پٹیشن کے ذریعے یہ درخواست کی کہ وہ مسلمانوں میں مروج تین طلاق اور زبانی طلاق پر پابندی عائد کرانے میں مدد کرے ۔

مسلم خواتین کے حقوق کی تنطیموں کا کہنا ہےکہ تین بار زبانی طلاق کہہ کر طلاق دینا غیر اسلامی اور غیر جمہوری ہے اور اسے ختم کیا جائے ۔ خواتین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کےحقوق کے تحفظ کےلیے مسلم پرسنل لا کے فرسودہ قوانین میں ترمیم کی جائے۔ ملک کی سینکڑوں سرکردہ اور معروف اہم شخصیات نے بھی خواتین کی حمایت کی ہے۔

بھارت کے مسلمانوں میں زبانی طلاق کا رواج بہت عام ہے اور طلاق کے بیشتر معاملوں میں اسی طریقے کا استعمال ہوتا رہا ہے ۔یہ طریقہ کار مکمل طور پرشوہر کے حق میں یکطرفہ ہے اوربیوی کو اس میں چیلنج کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ شوہر نے اگر تین بار طلاق، طلاق، طلاق، کا لفظ کہہ دیا تو وہ حتمی اور قطعی تصور ہو گا اور کالعدم نہیں ہو سکتا۔

علما اورمفتیوں نے شادی اور طلاق کے سماجی معاملے کو حلالہ کے رواج سے اور بھی پیچیدہ کر دیا ہے۔ اس رسم کے تحت اگر کوئی شوہر طلاق کے اپنے فیصلے کو واپس لینا چاہے تو اس کی مطلقہ بیوی کو ایسے کسی شخص سے نکاح کرنا ہوتا ہے جو اسے مباشرت کے بعد طلاق دے دے ۔ جن علاقوں میں حلالہ کی رسم عام ہے وہاں نکاح پڑھانے والے ملاؤں کے پاس حلالہ کی شادی کرنےوالے پیشہ ور مردوں کی فہرست بھی ہوتی ہے ۔ اس طرح کی دور جہالت کی پراگندہ جنس آلود اور خواتین مخالف معاشرتی اقدار بھارت میں مذہب کےنام پر آج تک مروج ہیں۔

بھارت میں مسلمانوں کے شادی، طلاق اور وراثت جیسے معاملات مسلم پرسنل لا کےوضع کیے ہوئے قوانین کے تحت طے پاتے ہیں۔ پرسنل لا بورڈ ایک غیر جمہوری ، خود ساختہ اور ماورائے آئین ادارہ ہے ۔ اس کے بیشتر ارکان جماعت اسلامی، جمیت العلما ہند، دیوبند ، ندوہ ، تبلیغی جماعت اور اہل حدیث جیسی مذہبی جماعتون اور ان کے حامیون پر مشتمل ہے ۔یہ ادارہ گذشتہ 65 برس سے اپنےوضع کیےہوئے قوانین میں کسی طرح کی اصلاح کی مزاحمت کرتا رہا ہے ۔ حالیہ برسوں میں پرسنل لا بورڈ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے اور بریلوی مسلک اور شیعہ مسلمانوں کے اہم نمائندے اس سے الگ ہو چکے ہیں ۔

ملک کے مذہبی رہنما اور جماعتیں زبانی طلاق اور حلالہ جیسی رسموں کے رواج کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں لیکن وہ اس کے خلاف ایک متفقہ ضابطہ وضع کرنے کےلیے تیار نہیں ہیں ۔ ملک کی عدلیہ جب مسلم خواتین کو ان کا جمہوری حق دلانے کے لیے مداخلت کرتی ہے تو تمام مذہبی جماتیں ہی نہیں مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ بھی عدلیہ کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے ۔

بھارت دنیا کا واحد ایسا جمہوری ملک ہے جہاں مسلم خواتین کو طلاق اور اپنے حقوق کے سلسلے میں برابر کا حق حاصل نہیں ہے ۔ ایک موثر متوسط طبقے کی کمی کےسبب بھارت میں مسلمانوں کی سیاست پر مذہبی تنظیمون اور علما کا کا خاصا اثر رہا ہے ۔ وہ ابھی تک معاشرتی معاملات میں ہر جمہوری اصلاحات کی مزاحمت کرتے آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہepa

مسلمانوں کا متمول طبقہ بھی جمہوری اصلاحات کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ حکومتیں مذہبی حساسیت کےپیش نظر مسلم خواتین کےحقوق پر کوئی قدم اٹھانا تو ایک طرف بخث ومباحثے سے بھی دامن بچاتی رہی ہیں۔

لیکن آزادی کے 65 برس بعد بھارت میں پہلی بار ایک متوسط تعلیم یافتہ طبقہ ابھر رہا ہے۔ یہ طبقہ کافی جدوجہد اور انتہائی مشکلوں سےگزر کر کامیابی تک پہنچا ہے۔ وہ دور جدید کےتقاضوں اور جمہوری قدروں سے آشنا ہے ۔ اسی ابھرتے ہوئے متوسط طبقے سے اب مسلم خواتین کےحقوق کے لیے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

ان آوازوں کو دبانا مشکل ہوگا کیونکہ کسی جمہوریت میں معاشرےکے کسی طبقے کے ساتھ دائمی طور پر تفریق نہین برتی جا سکتی اور کسی شہری کو محض اس کی جنس کی بنیاد اسےکمتر قرار دینا ایک فرسودہ تصور ہی نہیں انسانیت کے خلاف ایک جرم بھی ہے۔