افغانستان: عدالت کے عملے کی بس پر حملہ، دس افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ ایک بس پر ہونے والے حملے میں دس افراد ہلاک جبکہ چار زخمی ہو گئے ہیں۔
اس بس ایک اپیل کورٹ کا عملہ سفر کر رہا تھا۔
ابھی تک کسی نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نجیب دانش نے بتایا کہ بمبار پیدل تھا اور اس نے گاڑی کے پاس سے گزرتے ہوئے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
یہ واقعہ بدھ کی صبح رش والے وقت میں کابل کے مغربی علاقے میں پیش آیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق انھوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں عدالت کا عملہ اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔
وزارت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بس میدان وردک صوبے کو جا رہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ یہ حملہ طالبان کی جانب سے اپنے رہنما ملا اختر منصور کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق اور ان کے نائب ہیبت اللہ اخونزادہ کے ان کے جانشین بننے کے اعلان کے بعد ہوا ہے۔
اے پی کے مطابق اس سے قبل کابل میں 19 اپریل کو بڑا دھماکہ ہوا تھا جس میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔







