چین میں خواتین کے لیے مخصوص بسوں پر بحث

کچھ مقامی مرد اس سروس سے کچھ زیادہ متاثر نہیں ہیں

،تصویر کا ذریعہChina News Service

،تصویر کا کیپشنکچھ مقامی مرد اس سروس سے کچھ زیادہ متاثر نہیں ہیں

چین کے شہر ژینگژو میں خواتین کے لیے مخصوص بسیں متعارف کرنے کے بعد کچھ مقامی مرد اس سے ناخوش ہیں اور ایک آن لائن بحث بھی شروع ہوچکی ہے۔

اخبار داہے ڈیلی کے مطابق گرمیوں میں یہ سروس رش کے اوقات میں صبح اور شام کو ژینگژو میں دستیاب ہوگی۔ اخبار کے مطابق یہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات پر قابو پانے کی ایک کوشش ہے۔

مقامی بس کمپنی کا کہنا ہے اس سے ہلکے کپڑوں میں ملبوس خواتین کے ہراساں کیے جانے کے خلاف تحفظ ملے گا اور خواتین شیرخوار بچوں کو آسانی سے اپنا دودھ پلا سکیں گی۔

دنیا کے کئی ممالک میں خواتین کے لیے مخصوص ٹرین اور میٹرو کے ڈبے متعارف کروائے جاچکے ہیں اور اس کی کامیابی کے تناسب میں تنوع پایا جاتا ہے تاہم چین میں کسی ایک صنف کے لیے مخصوص سفری سہولت ایک نیا خیال ہے۔

اس بس میں سفر کرنے والی خواتین سے جب بات چیت کی گئی تو انھوں نے اس سروس پر خوشی کا اظہار کیا، ایک خاتون نے بتایا کہ ‘بلاشبہ یہ ایک اچھا خیال ہے، یہ خواتین کے لیے بہت قابل عزت ہے۔‘

تاہم کچھ مقامی مرد اس سے کچھ زیادہ متاثر نہیں ہیں۔ ایک شخص نے ڈیلی داہے جو بتایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں ہراساں کرنا معمول نہیں ہے۔ ’بس کمپنی نے اس پر ہنگامہ کھڑا کیا تھا۔ اس اقدام سے مردوں کو ذلت محسوس ہوگی۔‘

چین میں کسی ایک صنف کے لیے مخصوص سفری سہولت ایک نیا خیال ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچین میں کسی ایک صنف کے لیے مخصوص سفری سہولت ایک نیا خیال ہے

ایک اور شخص نے چائنا نیشنل ریڈیو کو بتایا کہ ’مجھے دوسری بس کے لیے خاصا انتظار کرنا پڑا کیونکہ مجھے اس میں سفر کی اجازت نہیں تھی۔‘

ایک ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر وائرل ہے جس میں ایک بزرگ شخص کو بس میں سوار نہ ہونے دینے پر وہ ڈرائیور کی سرزنش کر رہا ہے۔ وہ چلاتے ہوئے کہتا ہے کہ ’تم میرے ساتھ امتیازی سلوک کر رہے ہو۔ یہ پبلک بس ہے۔‘ دیگرافراد اس سے بے پرواہ دکھائی دیتے ہیں اور دوسری بس کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکتے ہیں۔

یہ موضوع چین کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ویبو پر خاصا گرم رہا ہے، بہت ساری خواتین کی جانب سے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔

تاہم ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ’تمام مرد برے نہیں ہوتے، لیکن کیا ہمارے خلاف تمام مردوں کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جارہا؟

کچھ مرد حضرات کی جانب سے بھی اس کی حمایت کی جارہی ہے تاہم کچھ کے خیال بھی یہ مردوں کے خلاف عمومی عدم اعتماد کی ترویج کر رہا ہے۔

بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ ویڈیو والے بزرگ آدمی کے ساتھ کچھ ریاعت برتنی چاہیے تھی۔