افغانستان سے آسٹریلوی امدادی کارکن کے اغوا کی اطلاعات

جلال آباد پاکستان کے سرحد سے نزدیک ہے اور وہاں عسکریت پسند مصروف کار ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنجلال آباد پاکستان کے سرحد سے نزدیک ہے اور وہاں عسکریت پسند مصروف کار ہیں

افغانستان سے اطلاعات ہیں کہ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی امدادی کارکن کو جلال آباد سے اغوا کر لیا گیا۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق جمعرات کی صبح 60 سالہ آسٹریلوی خاتون کو جلال آباد میں عمارت کے احاطے سے اُٹھایا گیا ہے۔

مغوی بنائی گئی خاتون کا نام کیتھرین جین ولسن ہے اور وہ غریب خواتین کو کاروبار شروع کرنے کے لیے مالی معاونت دینے والی تنظیم ’زردوزی‘ کی ڈائریکٹر ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ عسکری یونیفام میں ملبوث مسلح افراد نے انھیں زبردستی اٹھایا اور مغوی بنا کر لے گئے۔

ابھی تک کسی گروہ نے آسٹریلوی خاتون کی اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی اُن کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔

آسٹریلیا کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا ’حکومت آسٹریلوی شہری کے افغانستان میں اغوا ہونے کی اطلاعات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق مغوی بنائی گئی امدادی کارکن اس سے قبل فلاحی ادارے ’ڈینش کمیٹی فار ایڈ ٹو ریفیوجیز‘ کے لیے کام کرتی تھیں۔

آسٹریلوی خبر رساں ادارے کے مطابق زردوزی تنظیم عورتوں کو اپنا کاروبار چلانا اور سلائی کڑھائی سکھاتا ہے تا کہ وہ اپنے خاندان کا سہارا بن سکیں۔

جلال آباد پاکستان کی سرحد سے نزدیک ہے اور وہاں عسکریت پسند کافی سرگرم ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2015 میں جرمنی سے تعلق رکھنے والے دو امدادی کارکنوں کودو مختلف واقعات میں اغوا کر لیا گیا تھا جنھیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔