انڈیا: گھریلو خواتین اپنی جان کیوں لیتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty
انڈیا میں سنہ 2014 کے دوران 20 ہزار سے زائد گھریلو خواتین نے اپنی جان لے لی۔ یہ وہی سال تھا جب ملک میں 5 ہزار 650 کسانوں نے خودکشی کی تھی۔
اس لیے خودکشی کرنے والی خواتینِ کی تعداد کسانوں کے مقابلے میں 250 فیصد زیادہ تھی۔
لیکن اب تک اتنی بڑی تعداد میں گھریلو خواتین کی خود کو مارنے کی خبر ایک سال قبل کسانوں کی خودکشیوں کی طرح سے صفحہ اول کی خبروں کا حصہ نہیں بن سکی۔
گھریلو خواتین کی خود کو مارنے کی شرح فی ایک لاکھ افراد میں 11 کی تعداد پر مشتمل ہے۔ اور یہ سنہ 1997 سے انڈیا میں مجموعی خودکشی کی شرح کے مقابلے میں مسلسل زیادہ ہے۔ یہ شرح سنہ 2014 میں کم ہوکر 9.3 ہوگئی تھی لیکن اب تک گھریلو خواتین کی خودکشی کی شرح اُس سال کسانوں کی اموات سے دو گُنا زیادہ ہے۔
گھریلو خواتین کی خودکشیوں کی شرح مختلف ریاستوں میں مختلف ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مثال کے طور پر سنہ 2011 میں اُن کی شرح ہر ایک لاکھ افراد میں 20 تھی۔ اور یہ شرح مہاراشٹرا، پونڈیچڑی، تمل ناڈو، مدھیہ پردیش، کیرالہ، کرناٹک، آنددھرا پردیش، گوا، مغربی بنگال کی ریاستوں میں زیادہ تھی جبکہ پنجاب، گجرات، اُتر پردیش اور بہار میں خودکشیوں کی شرح کم ملتی ہے۔
مختلف تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور آسٹریلیا میں شادی شدہ افراد میں خودکشی کی شرح اسی عمر کے دوسرے لوگوں میں کم ہوتی ہے۔
انڈیا میں یہ شرح واضح طور پر بہت زیادہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مثال کے طور پر سنہ 2001 میں تقریباً 70 فیصد اپنی جانیں لینے والے افراد شادی شدہ تھے جن میں 70.6 فیصد مرد اور 67 فیصد خواتین تھیں۔
سنہ 2012 میں طبی جرنل دی لینسیٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ انڈیا میں 15 سال یا اس سے زائد عمر کی ِخواتین میں خودکشی کی شرح زیادہ آمدنی والے ممالک میں اسی عمر کی خواتین سے ڈھائی گُنا زیادہ ہے اور تقریباً اتنی زیادہ ہے جتنی چین میں ہے۔
مائر جو کہ انڈیا میں خودکشی اور معاشرے کے عنوان سے چھپنے والی کتاب کے مصنف اور اُن کی ساتھی محقق ڈیلا سٹین کہتی ہیں کہ ’ہم نے یہ جانا کہ خواتین کی خواندگی، ذرائع ابلاغ میں تشہیر کی شرح اور خاندان کا چھوٹا سائز تمام ہی شاید خواتین کی بااختیار بنانے کے مظہر ہیں اور یہ 30 سے 45 سالہ خواتین میں زائد خودکشی کی شرح سے منسلک ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
تحقیق کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ خواتینِ میں خودکشی کی شرح زیادہ تر ’روایتی‘ ریاستوں میں کم ہے۔ جہاں خاندان کا سائز بڑا اور خاندان کی توسیع عام ہے۔ یہ شرح ان ریاستوں میں زیادہ ہے جہاں گھرانہ مرکزی خاندانوں سے قریب تھے۔ جیسے کہ تامل ناڈو، آندھرا پردیش اور کیرالہ (جہیز کی وجہ سے ہونی والی اموات کو قتل کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔)
بدلتی توقعات
مائر کہتے ہیں کہ میاں بیوی اور والدین کے درمیان تنازعات ہوتے ہیں اور ’کم تعلیم یافتہ ساس اور زیادہ پڑھی لکھی بہوؤں کے درمیان تعلقات، نافرمان بہویں‘ گھر میں کشیدگی کا ذریعہ ہیں۔
جواین مولر کی ایک تحقیق کے مطابق ایک پڑھی لکھی بہو کے متعلق یہ امکان زیادہ ہے کہ وہ ’اپنے شوہر کے ساتھ ایک مضبوط تعلق استوار کرلیتی ہے اور اپنے شوہر کو یہ بات منوالیتی ہے کہ وہ اپنے والدین سے تعلق توڑ لے اور اپنا ذاتی مرکزی خاندان بنالیں۔‘
گوا سے تعلق رکھنے والے ایک نامور نفسیات دان اور لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر وکرم پٹیل لینسیٹ تحقیق میں معاون تھے، انھوں نے مجھے بتایا کہ انڈیا میں خاتونِ خانہ کی خودکشیوں کی اتنی بڑی شرح کو ’صنف اور تعصب‘ کے دوہرے اثر سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
انھوں نے کہا ’بہت سی خواتین کو زبردستی گھر والوں کی پسند سے شادی کرنا پڑتی ہے۔ اُن کے کچھ خواب اور آرزوئیں ہوتی ہیں لیکن اکثر انھیں مددگار شوہر نہیں ملتے۔ اکثر اوقات اُن کے والدین بھی اُن کی حمایت نہیں کرتے۔ وہ ایک مشکل نظام اور معاشرتی ماحول میں پھنسی ہوئی ہیں۔‘
اُن کے مطابق ’رومانس، اعتماد اور زندگی کے ساتھی کے ساتھ محبت کی کمی ایسے سانحات کو جنم دے سکتی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’صلاح مشورہ دینے والے پیشہ ور کونسلرز اور ڈپریشن کے مریضوں کو طبی سہولیات کی کمی معاملات کو مزید سنگین بنارہی ہے۔ اور پھر ’دماغی امراض‘ سے منسلک سماجی بدنامی بھی اس کی وجہ ہے۔
ایک دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے شادی شدہ خواتین میں خودکشیوں کے بڑھتے رجحان کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ جبکہ کسانوں کی خودکشی کے واقعے کو ذرائع ابلاغ میں بہت زیادہ توجہ ملتی ہے تو خواتین کی خودکشی کے مسئلے کو کیوں نہیں؟
جہیز کے لیے ہراساں کیا جانا

،تصویر کا ذریعہAFP
مائر کہتے ہیں کہ ایسے کم ہی واقعات ہوتے ہیں جن کو انڈیای ذرائع ابلاغ کی جانب سے شادی شدہ خواتین کی خودکشی کو خبروں میں جگہ دی جاتی ہے جیسے کہ زیادہ تر سسرال والوں سے بدسلوکی اور جہیز کے لیے ہراساں کیے جانے کے واقعات کو ذرائع ابلاغ میں جگہ دی جاتی ہے۔‘ یہ واضح طور پر کہانی کا ایک حصہ ہے۔
کلپنا شرما جو ایک تحقیق کار اور صحافی ہیں کہتی ہیں کہ ’یہ کسی سطح پر خواتین سے نفرت سے بھی بڑھ کر ہے۔ خواتین کے مسائل سے منسلک ہونے میں کمی نظر آتی ہے اور حتیٰ کہ ذرائع ابلاغ اُس مسئلے سے آگاہ بھی نہیں ہوتے۔‘
انڈیا کی ’نااُمید خاتونِ خانہ‘ کی کہانی جیسے کہ مائر نے بیان کیا اُسے فوری بنیادوں پر تحقیق کی اور بتائے جانے کی ضرورت ہے۔







