’برقع پوش خواتین غلامی کی حامی ہیں‘

فرانسیسی وزیر لارنس روسگنول نے مسلمانوں کے اقدار کے پیش نظر بنائے جانے والے ملبوسات پر تنقید کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفرانسیسی وزیر لارنس روسگنول نے مسلمانوں کے اقدار کے پیش نظر بنائے جانے والے ملبوسات پر تنقید کی ہے

پیرس میں مسلمانوں کے مخصوص فیشن میں اضافے کے خلاف شدید رد عمل سامنے آ رہا ہے۔

گذشتہ روز بدھ کو ایک فرانسیسی وزیر نے نقاب، حجاب یا برقع زیب تن کرنے والی خاتون کا اس ’نیگرو‘ (سیاہ فام) سے مقابلہ کیا جو ’غلامی کے حامی ہیں۔‘

فرانس میں خاندانوں کے امور کی وزیر لارنس روسگنول کے بیان پر سوشل میڈیا میں شدید رد عمل سامنے آيا ہے۔

انھوں نے یہ بیان فیشن کے سابق بڑے تاجر پیئر بیرگ کے بیان کے بعد دیا تھا، جس میں مسٹر بیرگ نے ڈیزائنروں کو اسلامی ملبوسات اور دوپٹے بنانے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان پر ’خواتین کو غلام بنانے میں تعاون‘ کا الزام لگایا تھا۔

فیشن کے اپنے زمانے کے لیجنڈ فیشن ڈیزائنر ایوز ساں لوراں کے پارٹنر بیرگ نے مسلم بازاروں کو خصوصی طور پر دھیان میں رکھ کر ملبوسات تیار کرنے کے رجحان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

معروف اطالوی ڈیزائنر ڈولچی اینڈ گبانا فیشن سلسلے نے اس رجحان کی پیروی کی ہے۔

مسلمانوں کے لیے ’باحیا‘ ملبوسات کے چلن میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمسلمانوں کے لیے ’باحیا‘ ملبوسات کے چلن میں اضافہ ہوا ہے

روسگنول خواتین کے حقوق کے لیے بھی ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے بی ایف ایم ٹی وی اور آر ایم سی ریڈیو پر بیان دیا تو وہ فرانسیسی فلسفی مانٹیسکو کے ’سیاہ فام باشندوں کی غلامی کے خاتمے‘ کے نظریے کے پیش نظر بول رہی تھیں۔

ہر چند کہ انھوں نے ’نیگرو‘ لفظ کے استعمال پر معافی طلب کی لیکن مسلم لباس کے خلاف اپنے موقف پر قائم ہیں۔

ان کے علاوہ دو سرکردہ فرانسیسی ڈیزائنروں ايگنس بی اور ژاں چارلس دا کیسلبجیک نے بھی نام نہاد ’حیا دار مسلم فیشن‘ کی شدید مخالفت کی۔

بیرگ نے فرانسیسی ریڈیو یورپ1 پر کہا ’مجھے سکینڈل میں شامل کر لیا گيا ہے، ڈیزائنروں کو اسلامی فیشن سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے، وہ خواتین کو زیادہ خوبصورت نظر آنے میں تعاون کرنے اور انھیں آزادی دینے کے لیے ہیں نہ کہ اس آمریت کا ساتھ دینے کے لیے جو قابل نفرت چیزیں نافذ کرتی ہیں اور ہم خواتین کو چھپاتے ہیں اور انھیں پوشیدہ زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں۔‘

بعد میں انھوں نے خبررساں ادارے کے ساتھ بات چیت کے دوران یہ تسلیم کیا کہ ان سے ’زبان کے استعمال میں غلطی سرزد ہوئی ہے‘ لیکن اس کے علاوہ میں کسی بھی لفظ کو واپس نہیں لینا چاہتی۔

یہ ملبوسات مشرق وسطیٰ اور دوسرے مسلم بازاروں کے پیش نظر تیار کیے جا رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنیہ ملبوسات مشرق وسطیٰ اور دوسرے مسلم بازاروں کے پیش نظر تیار کیے جا رہے ہیں

خیال رہے کہ یورپ میں فرانس ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں اور وہاں حجاب پر پابندی ہے اور اس کے بعص بڑے فیشن ہاؤ‎س نے جھجھکتے ہوئے مسلم مخصوص سٹائل کو اپنایا تھا۔

فرانس کی بڑی کمپنی ایل وی ایم ایچ کی ایک کمپنی ڈی کے این وائی نے پہلے پہل دو سال قبل مشرق وسطیٰ کے بازاروں اور رمضان کے مقدس مہینے کے پیش نظر ’باحیا ملبوسات‘ کے رجحان کی بنا ڈالی تھی۔

ا س کے بعد اس میں سویڈن کی کمپنی ایچ اینڈ ایم شامل ہو گئی اور اس نے اپنی تشہیری مہم میں ایک حجاب والی مسلم خاتون کو پیش کیا۔

برطانوی کمپنی مارکس اینڈ سپنسر نے بھی اس میں قدم رکھا اور اپنے آن لائن سٹور پر پورے جسم کو ڈھکنے والی ’بُرکنی‘ پیش کی جو مسلمان خاتون کا تیراکی کا لباس ہے۔

گذشتہ موسم گرما میں کئی بڑی فیشن کمپنیوں نے رمضان کے زمانے میں ’باحیا لباس‘ کے مختلف انداز پیش کیے۔