فرانس: حجاب کے معاملے پر کشیدگی

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مضافاتی علاقے ٹریپس میں حجاب کے معاملے پر شروع ہونے والی کشیدگی دوسرے روز بھی جاری رہی۔
سنیچر کی رات مشتعل ہجوم نے پولیس پر پتھراؤ کیا ہے اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
جمعرات کو یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب پولیس نے اس شخص کو گرفتار کیا جس کی بیوی کو پولیس نے حجاب ہٹانے کو کہا تھا۔فرانس میں عوامی مقامات پر حجاب پہننے پر پابندی ہے۔
گرفتار کیے گئے شخص پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک پولیس اہلکار کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔
فرانس کے ایک بڑے مسلم گروپ نے پولیس حکام کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے انھیں اشتعال دلایا۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق مشتبہ شخص ایک 21 سالہ نو مسلم بتائے جاتے ہیں جنھیں سنیچر کو رہا کیا گیا اور اب عدالت میں پیش ہونا ہے۔
تقریباً تین سو افراد پر مشتمل ہجوم نے جمعہ کو اس پولیس سٹیشن پر دھاوا بول دیا جس میں گرفتار شخص کو رکھا گیا تھا۔
ٹریپس میں پولیس کی مزید نفری تعینات کی گئی ہے اور ملک کے وزیرِ داخلہ مینئل والز نے کہا ہے کہ پولیس حالات قابو میں آنے تک وہاں رہے گی۔ ٹریپس میں پولیس سٹیشن کے باہر پولیس کی تیس گاڑیوں کو دیکھا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیرِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ کشیدگی کے دوران چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور دس گاڑیاں جلا دی گئیں ہیں۔
تشدد کے آخری واقعے میں ٹریپس اور دوسرے مضافاتی علاقوں میں گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور پولیس کو آگ کے گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔
سب سے زیادہ ہنگامہ اتوار کی صبح ہوا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس اہلکاروں کو ایک گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی گئی جس میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں۔
پولیس حکام نے بی ایف ایم ٹی وی چینل کو بتایا کہ کشیدگی دوسرے قریبی علاقوں ایلن کورٹ اور گیان کورٹ تک پھیل رہی ہے۔
پیرس میں بی بی سی کے نمائندے ہیو شوفیلڈ کا کہنا ہے کہ فرانس کے اس علاقے میں جہاں زیادہ تر تارکینِ وطن آباد ہیں۔
فرانس میں عوامی مقامات پر حجاب پہننے پر پابندی اپریل 2011 میں متعارف کرائی گئی تھی اور اس پر عمل نہ کرنے والوں کو جرمانے کی سزا تجویز کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ پیرس کے مضافات میں 2005 دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد فرانس میں جگہ جگہ پرتشدد واقعات رونما ہوئے تھے جس کے بعد ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔







