کینیڈا: حلف برداری پر نقاب اتارنے کی شرط کا قانونی دعویٰ واپس

کینیڈا کے حالیہ انتخابات میں نقاب کا موضوع خاص طور پر زیر بحث رہا

،تصویر کا ذریعہunknown

،تصویر کا کیپشنکینیڈا کے حالیہ انتخابات میں نقاب کا موضوع خاص طور پر زیر بحث رہا

کینیڈا میں لبرل پارٹی کی حکومت نے ملک کی شہریت حاصل کرنے کی خواہش مند خواتین پر حلف برداری کی تقریب کے دوران نقاب اتارنے کی شرط کے قانونی دعوے کو واپس لے لیا ہے۔

کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے کینیڈا کے سابق وزیر اعظم سٹیفن ہارپر نے کینیڈا کی عدالت عالیہ سے اس مسئلے پر ایک اپیل کی سماعت کے لیے درخواست کی تھی۔

کینیڈا کے حالیہ انتخابات میں نقاب کا موضوع خاص طور پر زیر بحث رہا۔

سٹیفن ہارپر پر الزام تھا کہ انھوں نے اس مسئلے کو مسلمانوں کے خلاف خوف پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا۔

لبرل پارٹی سے تعلق رکھنے والے نئے منتخب وزیر اعظم جسٹین ٹروڈو نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس اپیل کی مخالفت کی تھی۔

کینیڈا کی میڈیا کے مطابق حکام نے کہا ہے کہ اپیل کی سرکاری عدالتی درخواست کی قانونی حیثیت کو ختم کر دیاگیا ہے۔

کینیڈا کی وزیر انصاف جوڈی ولسن رے بولڈ اور وزیر برائے تارکین وطن جان مککلم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کینیڈا کے معاشرے کا تنوع اس کے اہم اثاثوں میں سے ایک ہے۔ اور لبرل اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کینیڈا کے معاشرے میں شامل ہونے کے خواہش مند افراد کی شہریت حاصل کرنے کا عمل کامیابی سے جاری رہے۔‘

ایک پاکستانی خاتون زنیرا اسحاق نے کنزرویٹو حکومت کے اس قانون کی مخالفت کی تھی جس کے تحت خواتین کو کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے کے لیے حلف برداری کی تقریب میں اپنے چہرے سے نقاب ہٹانا لازمی تھا۔

سٹیفن ہارپر نے اپنے دور حکومت میں نقاب پر ایک سخت موقف اختیار کرنے کے بعد ’وحشیانہ ثقافتی سرگرمیوں‘ پر رپورٹ کرنے کے لیے ایک پولیس ہاٹ لائن قائم کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا جس پر کینیڈا میں رہنے والے بہت سی قومیتوں اور مذاہب کےلوگوں نے غصے کا اظہار کیا تھا۔