’بھارت ماتا کی جے‘ نہ کہنےپر رکن اسمبلی معطل

،تصویر کا ذریعہPTI
انڈیا میں ان دنوں حب الوطنی پرگرما گرم بحث جاری ہے اور ہر کوئی وطن پرستی کی تعریف و تشریح میں لگا ہے اور ’بھارت ماتا کی جے‘ کہنا وطن پرستی کی علامت بن گيا ہے۔
اسی سلسلے میں انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رکن اسمبلی وارث پٹھان کو اسمبلی سے معطل کر دیا گیا ہے۔
ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر رام کدم نے بتایا، ’انھوں (وارث پٹھان) نے بھارت ماتا کی جے بولنے سے انکار کر دیا جس کے بعد انھیں عام رائے سے رواں سیشن کے لیے اسمبلی سے معطل کر دیا گيا ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق جب وارث پٹھان پر ’بھارت ماتا کی جے‘ کہنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ ہماری آئینی ذمہ داری نہیں ہے اور ہم جے ہند کہہ سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ تمام رکن اسمبلی اپنی اپنی پارٹی کے نظریات سے قطع نظر وارث پٹھان کی معطلی پر ایک رائے رکھتے تھے۔
اس سے قبل آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے صلاح دی تھی کہ ملک میں حب الوطنی کو بڑھانے کے لیے اس نعرے کی ضرورت ہے جسے مسترد کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ وہ ’بھارت ماتا کی جے‘ نہیں کہیں گے چاہے ان کی گردن پر چاقو بھی رکھ دیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہAnupamPkher
انھوں نے کہا ہے کہ ہندوستان کے آئین میں ایسا کہیں نہیں لکھا ہے کہ ’بھارت ماتا کی جے‘ بولنا ضروری ہے۔
معروف اداکار انوپم کھیر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’بھارتیوں کے لیے وطن پرستی کی واحد تعریف بھارت ماتا کی جے ہے، اس کے علاوہ باقی تمام چیزیں راہِ فرار اختیار کرنا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ اس سے قبل انوپم کھیر نے بھارت میں اظہار رائے کی آزادی کے سوال پر عامر خان اور شاہ رخ خان کی مخالفت کی تھی۔ وہ ان دنوں حکومت کے حامی کے طور پر بہت سرگرم نظر آ رہے ہیں۔
ان کے علاوہ بی جی پی کے جنرل سیکریٹری کیلاش وجے وارگیا کا کہنا ہے کہ ’جو بھی بھارت ماتا کی جے نہیں کہہ سکتا اسے بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘
سوشل میڈیا میں بہت سے افراد اگر اویسی کے حق میں نظر آئے تو بہت سے ان کے خلاف۔

معروف گیت کار اور مکالمہ نگار جاوید اختر نے پارلیمان کے ایوان بالا میں اپنی مدت پوری ہونے کے دوران خطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی کو جہاں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تین بار ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگایا وہیں انھوں نے حمکراں جماعت بی جے پی کے ارکین پارلیمان کو ملک میں فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے والے بیانات سے پرہیز کرنے کے لیے کہا۔
انھوں نے اویسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’وہ کسی بھی قیمت پر بھارت ماتا کی جے نہیں کہیں گے کیونکہ یہ آئین میں نہیں لکھا ہے ۔۔۔ لیکن وہ بتائیں کہ آئین میں شیروانی اور ٹوپی پہننے کی بات کہاں لکھی ہے۔‘
اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’ملک میں پولرائزیشن اور مذہبی تعصب پھیلانے کی کوششوں کو بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘







