چینی دلھنوں کی بڑھتی قیمتیں

،تصویر کا ذریعہ
ان دنوں چین کے سوشل میڈیا پر ایک غیر مصدقہ لیکن چونکا دینے والی کہانی گردش کر رہی ہے جو چین میں دلھن کے لیے قیمت ادا کرنے کی رسم کے بارے میں تشویش ظاہر کرتی ہے۔
یہ کہانی ایسی ہے جو بہت سے چینیوں پر گزری ہو گی۔
حال ہی میں مقامی ریڈیو سٹیشن نے ایک شخص کی کہانی سنائی جو اپنی حاملہ گرل فرینڈ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن جب وہ اسے دلھن بنانے کے لیے 20 ہزار ڈالر کا انتظام نہ کر سکا تو لڑکی کے والد نے اسے اپنی بیٹی کا رشتہ دینے سے انکار کر دیا اور اپنی بیٹی کوحمل ضائع کرنے پر مجبور کیا۔
اس کہانی کی صداقت کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح ثبوت نہیں ملے ہیں۔ ریڈیو سٹیشن نے اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی، اور اسے تلاش کرنے کی ساری کوششیں بے سود ثابت ہوئی ہیں۔
لیکن اس خبر کے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں دلھن کی بڑھتی ہوئی قیمت پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ چین وہ ملک ہے جہاں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
دلھن کی قیمت دینے کا رواج جہیز کی رسم کی طرح ہے، جس میں لڑکے کے بجائے لڑکی کے گھر والے دولھا کو جہیزکی صورت میں رقم یا سامان دیتے ہیں۔
چینی ویب سائٹ واٹس آن ویبو کی مدیرہ مانیا کوئٹسی کہتی ہیں کہ یہ ملک میں رائج صدیوں پرانی رسم ہے جو کمیونسٹ دور میں بھی جاری رہی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
کوئٹسی نے سب سے پہلے اس کہانی کو سوشل میڈیا پر ڈالا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ چین کی بڑھتی ہوئی معیشت کے ساتھ ساتھ دلھن کی قیمت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ ’یہ رسم 50، 60 اور 70کی دہائیوں میں بھی موجود تھی لیکن اس وقت ایک دلھن کی قیمت تھرمس فلاسک، یا پلنگ بھی ہوسکتی تھی۔
’بعد میں اس میں فرنیچر، ریڈیو اور گھڑی بھی شامل ہوگئی۔ سنہ 80 کی دہائی تک اس میں ٹیلیویژن اور ریفریجریٹر کا بھی اضافہ ہوگیا، اور جب سے چین کی معیشت کھلی ہے تب سے دلھن کی قیمت بھی رقم کی صورت میں لی جانے لگی ہے۔‘
دلھن کی قیمت بڑھنے کی ایک وجہ تو معاشی خوش حالی ہے لیکن اس کی دوسری بڑی وجہ چین کی ’ایک خاندان ایک بچہ‘ کی پالیسی کے نتیجے میں ملک میں خواتین کی تعداد کا کم ہوجانا بھی ہے۔
اس پالیسی کی وجہ سے بہت سے روایت پسند جوڑوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ وہ لڑکی کے والدین بننے والے ہیں تو انھوں نے اسقاط حمل کروا دیا کیونکہ انھیں اپنے خاندان کو بڑھانے اور بڑھاپے میں ان کی کفالت کرنے کے لیے بیٹے کی خواہش تھی۔ نتیجتاً بہت سی لڑکیاں یا تو پیدا ہونے سے قبل ہی حمل میں ضائع کر دی گئیں یا پھر پیدائش کے بعد عدم توجہی کی وجہ سے شیر خواری میں ہی ہلاک ہوگئیں۔
ہارورڈ کے تحقیق کاروں کے مطابق اس وقت چین میں ہر 100 خواتین کے مقابلے میں 118 مرد ہیں، جو تعداد میں خواتین سے چار کروڑ ’زیادہ‘ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
خواتین کی اس طلب کے نتیجے میں ملک کے کچھ حصوں میں دلھن کی قیمت بہت بڑھ گئی ہے اور اس سے متاثر ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد دیہی علاقوں کے مردوں کی ہے۔
کوئٹسی کہتی ہیں کہ ’یہ مرد گنجی شاخیں‘ کہلاتے ہیں۔
’یہ وہ مرد ہیں جو انتہائی غریب اور ان پڑھ ہیں، نہ ان کی شادی ہوسکی ہے نہ ہی بچے۔ اس لیے ان کو بغیر پتوں کا درخت کہا جاتاہے۔ چین میں ایسے کئی گاؤں اس طرح کے مردوں سے بھرے پڑے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’خواتین گاؤں چھوڑ کر شہروں کا رخ کرتی ہیں تاکہ اپنے لیے زیادہ خوش حال مرد تلاش کر سکیں، اور جو خواتین گاؤں میں رہ جاتی ہیں ان میں ہر ایک کے لیے اوسطاً 20 رشتے موجود ہوتے ہیں، اس لیے وہ بھی شادی کے لیے زیادہ رقم کا مطالبہ کرتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہXinhua
ہارورڈ کے محققین کا کہنا ہے کہ چین میں صنفی تناسب کے غیر متوازن ہونے کی وجہ سے ملک کے ’مایوس کنوارے مردوں‘ میں جرائم کی شرح اور انتشار بھی بڑھ سکتا ہے۔ کوئٹسی مذکورہ کہانی کے رد عمل کے بارے میں کہتی ہیں کہ چین میں اس خبر کے بعد انٹرنیٹ پر اس طرح کا شدید ردعمل کم از کم مغرب کے لیے حیران کن ہے۔
کچھ لوگ لڑکی کے باپ کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے سے تعلق قائم کرتے وقت اس کے اثرات کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔ دیگر لوگ مختلف خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اور دلھن کی قیمت ادا کرنے کی رسم پر تنقید کر رہے ہیں۔







