بھارتی دلھنیں دولھوں کو کیوں ٹھکرا رہی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہKirtish Bhat
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
برسوں پہلے جب میں بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں واقع اپنے گاؤں گئی تو میں نے ایک خاتون رشتہ دار کو شیخی بھگارتے سنا تھا کہ ’اونچی ذات برہمن سے تعلق ہونے کی وجہ سے اپنے بے روز گار بیٹے تو کیا میں چاہوں تو اپنے کتے کے لیے دلھن لے آؤں۔‘
اس کا یہ اعتماد بھارت کی سب سے زیادہ 20 کروڑ آبادی والی ریاست میں روایتی طور پر عورت کو حاصل کم تر مقام کی مرہونِ منت تھا۔
اقوامِ متحدہ کی انسانی ترقی کے پیمانوں میں یہ ریاست اب بھی بہت پیچھے ہیں اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں اب بھی شادی سمیت زندگی کے اہم فیصلوں میں عورتوں کی کوئی مرضی نہیں چلتی۔
لاکھوں لڑکیوں کی شادیاں 18 برس کی عمر سے پہلے ہی ہو جاتی ہے، لیکن اب تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے حالیہ مہینوں میں کئی نوجوان لڑکیوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر دولھوں کو مسترد کر دیا۔
ہم ایسے ہی چند واقعات آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں:
نشے میں دھت دولھا

،تصویر کا ذریعہKirtish Bhat
گذشتہ ماہ فیروز آباد ضلعے میں ایک خاتون نے شادی سے اس وقت انکار کر دیا جب اس کا دولھا شادی کے لیے نشے میں دُھت ہو کر آ گیا۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق دولھا نشے میں اس قدر بے حال تھا کہ وہ ’ور مالا‘ پہنانے کے لیے کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا۔
یہ شادی اس وقت منسوخ کر دی گئی جب دلھن نے دھمکی دی کہ اگر کسی نے اسے زبردستی ایک نشے میں دھت شخص سے شادی کرنے کو کہا تو وہ خودکشی کر لے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرح گذشتہ برس بھی ماہوبا ضلعے میں ایک لڑکی نے نشے سے بے حال شخص سے شادی سے انکار کر دیا تھا۔
حساب کتاب میں کمزور

،تصویر کا ذریعہKirtish Bhat
جب موہر سنگھ نے اپنی بیٹی لولی کی شادی طے کی تو وہ نہیں جانتا تھا کہ ان کا ہونے والا داماد رام برن ان پڑھ تھا۔
معلوم نہیں کیوں لیکن عین شادی سے قبل لولی نے رام کو حساب کا ایک سادہ سا سوال حل کرنے کے لیے دے دیا۔
موہر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’دولھے کے خاندان نے اس کی تعلیم کے بارے میں ہمیں اندھیرے میں رکھا تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ حتٰی کہ اس سوال کا جواب تو پہلی جماعت کا طالبِ علم بھی دے سکتا ہے۔
بیمار دولھا

،تصویر کا ذریعہKirtish Bhat
ایک انتہائی خوش دولھا عین ور مالا پہناتے ہوئے دورہ پڑنے پر ایک مہمانوں کے سامنے گر پڑا اور اسے فوری طور پر ہستال لے جانا پڑ گیا۔
دلھن کے خاندان والوں کا الزام تھا دولھے والوں نے یہ بات چھپائی ہے کہ اسے مِرگی ہے۔
ہسپتال سے واپس آ کر پہلے دولھے نے دلھن کی منت سماجت کی کہ وہ اپنا ارادہ بدل دے کیونکہ اگر وہ بغیر دلھن کے واپس جائیں گے تو ان کا مذاق بنے گا لیکن دلھن ڈٹی رہی۔
جھگڑا شروع ہو گیا اور نوبت پولیس تک پہنچ گئی۔ تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ دلھن کی شادی ہو چکی ہے اب کچھ نہیں ہو سکتا۔
ایک بوسے سے شادی ٹوٹ گئی

،تصویر کا ذریعہKirtish Bhat
ایک جوڑا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ملا، محبت ہوئی اور شادی کا فیصلہ کر لیا گیا۔
لیکن علی گڑھ میں منقعد اِس نمائش سے بھرپور شادی میں سب کچھ منصوبے کے مطابق نہیں ہوا۔ شادی میں شہر کی میئر شکنتلا بھارتی سمیت 500 مہمان شریک تھے۔
سارا قصور ایک ’بوسے‘ کا تھا، جب دولھے کی بھابھی دیور کی شادی پر جوش میں آ کر آگے بڑھیں اور دولھے کو بوسہ دے دیا، جسے دلھن اور اس کے خاندان والوں نے ناپسندیدگی سے دیکھا۔
معاملہ اور بھی بگڑ گیا جب بلکہ وہ دولھے کو گھیسٹ کر لے گئیں اور رقص شروع کر دیا۔
ایک لڑائی چھڑ گئی اور خبروں کے مطابق دلھن کے خاندان والوں نے دولھے کو یرغمال بنا لیا اور میئر کی دخل اندازی کے بعد کہیں جا کر دولھے کو چھوڑا گیا۔
کم روشنیاں

،تصویر کا ذریعہKirtish Bhat
گذشتہ برس ریاست کے شمال مشرقی شہر کان پور میں دولھے والوں نے شادی کے لیے بہتر روشنیوں کا انتظام کرنے کی فرمائش کر ڈالی جسے دلھن والوں نے مسترد کر دیا۔
تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور دلھن والوں نے دولھے والوں پر ’بدتہذیب اور بدتمیز‘ ہونے کا الزام عائد کر دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس سے پہلے کبھی روشنیوں کے انتظام پر شادی ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھی۔
تھوکنا منع ہے

،تصویر کا ذریعہKirtish Bhat
تمباکو کا استعمال صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
ایک دولھے نے اپنی شادی پر صحت سے متعلق یہی تنبیہہ در گزر کر دی۔ وہ تمباکو چباتا ہوا تقریب میں آیا اور عین رسموں کے بیچ وہ تھوکنے کے لیے باہر نکل گیا۔ دلھن کو غصہ آ گیا اور اس نے فوراً شادی منسوخ کر دی۔ کیونکہ اس کے بقول وہ کسی ایسے شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی جو تمباکو خوری کا عادی ہو۔







