پانی بچانے کی جنگ

- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، ممبئی
ممبئی کے میرا روڈ پر اتوار کی صبح ایک 80 سالہ شخص اپارٹمنٹ کی سب سے اونچی منزل پر پہنچتا ہے اور اگلے چار گھنٹوں تک ہر ایک کے دورازے پر دستک دے کر لوگوں سے پوچھتا ہے کہ کہیں ان کے نل سے پانی تو نہیں ٹپک رہا۔
یہ عمر رسیدہ شخص عابد سورتی ہیں جو تقریباً 80 کتابوں کے مصنف ہیں۔ انھیں اس کے لیے قومی انعامات سے بھی نوازا جا چکا ہے، وہ مصور اور کارٹونسٹ بھی ہیں۔
مسٹر سورتی کے ساتھ کام کرنے والا ایک پلمبر اور ایک رضا کار بھی ساتھ ہے۔ جو افراد ان سے نہیں کہتے ہیں ان سے وہ معذرت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں ’معاف کرنا ہم نے آپ کو ڈسٹرب کیا۔‘
لیکن جو لوگ کہتے ہیں کہ ہاں پانی ٹپک رہا ہے تو پھر پملبر ان کے گھر میں اس کی مرمت کا کام شروع کر دیتا ہے۔
عابد سورتی کہتے ہیں: ’پانی کی لیکج سے مجھے ہمیشہ ہی پریشانی ہوتی رہی ہے۔ جب بھی میں کسی رشتہ دار یا پھر دوست کے گھر جاتا تو اگر ایک قطرہ بھی پانی لیک ہوتا تو میں اس کے ٹپکنے کو سن لیتا تھا اور ان سے اسے فوراً مرمت کرانے کو کہتا۔‘

سورتی کہتے ہیں کہ وہ ممبئی کے ایک فٹ پاتھ پر پلے بڑھے اور ایک بچے کے طور پر انھوں نے اپنی ماں کو ایک بالٹی پانی کے لیے صبح چار بجے قطار میں لگتے دیکھا ہے۔
’میں نے لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑتے دیکھا ہے۔ جب بھی میں پانی کو اس طرح ضائع ہوتے دیکھتا ہوں تو بچپن کی میری یہی یاد مجھے پریشان کرتی ہے۔‘
سنہ 2007 میں انھوں نے اخبار میں اس بارے میں ایک رپورٹ دیکھی جس کے مطابق اگر ایک سیکنڈ میں پانی کا ایک قطرہ ٹپکتا ہے تو ہر ماہ تقریا ایک ہزار لیٹر پانی ضائع ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں: ’میں اس منظر کو کبھی بھول ہی نہ پایا کہ کوئی شخص ایک ہزار لیٹر بوتل پانی یونہی گٹر میں بہا دیتا ہے۔‘
بس اسی کے بعد انھوں نے ’ڈراپ ڈیڈ فاؤنڈیشن‘ نامی ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی جس کا نعرہ ہے ’ ہر ایک قطرے کو بچایے۔‘
اس کے تحت انھوں نے ایک پلمبر کو ملازم رکھا اور آس پاس کے لوگوں کے پاس جا کر کے جس کے یہاں بھی پانی ٹپکنے یا لیک ہونے کی شکایت ہو اس کی مرمت کا کام مفت میں شروع کر دیا۔
لیکن جلد ہی وہ ایک مشکل سے دوچار ہوئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’عام طور پر دروازے پر خواتین ہی باہر نکلتیں اور ہم دو آدمی ہوتے تھے۔ انھیں شک ہوجاتا اور وہ دروازہ بند کرلیتیں۔ تو پھر ہم نے اپنی مدد کے لیے ایک خاتون رضاکار کو بھرتی کیا۔‘

تاہم ان کے دوست اور اہل خانہ نے بھی کبھی ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ ’وہ کہتے ارے یہ تو چند قطرے ہیں، یہ کوئی مقدس دریائے گنگا تو ہے نہیں جو نالی میں بہے جا رہی ہے۔ارے مصوری اور لکھنے پر توجہ کیوں نہیں دیتے، چند قطروں کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟‘
وہ پیسوں کو لے کر بھی تشویش میں تھے کہ آخر پلمبر اور رضاکار کو کہاں سے ادائیگي کریں گے؟
ان کا کہنا ہے کہ ’جب آّپ ایمانداری سے کوئی اچھا کام کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو پوری کائنات ہی آپ کی مدد کے لیے ساتھ آجاتی ہے۔ یہی نہیں خدا آپ کے لیے فنڈ کا انتظام بھی کرتا ہے۔‘
تنظیم کے قیام کے فیصلے کے چند روز بعد ہی انھیں خبر ملی کی انھیں ہندی ادب میں ایک انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے اور اس اعزاز کے ساتھ ایک لاکھ روپے کی نقدی بھی ملے گی۔
عابد سوری کہتے ہیں کہ ’میرا خرچ بہت کم ہے اور پلمبر اور رضا کار دونوں کو میں پانچ، پانچ سو روپے دیتا ہوں۔ کچھ پیسے چیزوں کے خریدنے پر صرف ہوئے اور اس طرح یہ پیسہ چند برسوں تک چلا۔‘
’جب بھی میرے مالی حالات خستہ ہوتے تو خدا کسی مناسب شخص کو کہتا ہے اور میرے بغیر کہے ہی مجھے چیک موصول ہو جاتا ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ اب تو پلمبر اور رضا کار نے بھی اس کار خیر کے لیے ان سے پیسے لینا بند کر دیا ہے۔
ان کے مطابق انھوں نے اپنی کوششوں سے اس دوران تقریبا ایک کروڑ لیٹر پانی کو ضائع ہونے سے جہاں بچایا ہے وہیں اس کے لیے خوب تعریف بھی لوٹی ہے۔

حال ہی میں اداکار امیتابھ بچّن نے انھیں اپنے ٹی وی شو میں مدعو کیا تھا اور انھوں نے ان کی تنظیم کو 15 لاکھ روپے کا عطیہ دیا۔
بہت سے لوگ ان کے کام کو سراہتے ہیں اور مقامی رہائیشیوں کا کہنا ہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ مسٹر سوری لوگوں کو بتاتے ہیں کہ پانی کو محفوظ کرنا کتنا اہم ہے اور یہ پیغام لوگوں تک پہنچنے بھی لگا ہے۔
گورو پانڈے، جنھوں نے عابد سوری کو اپنے گھر کے نل درست کرنے کے لیے بلایا تھا، کہتے ہیں کہ گذشتہ کچھ برسوں سے ممبئی میں اچھی بارش نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے پانی کی قلت رہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ’ہم عام طور پر چھوٹے موٹے لیکس کو ناجانتے ہوئے نظر انداز کر دیتے ہیں، مستقبل میں میں اسے فوراً ہی ٹھیک کروں گا۔ میں بہت خوش ہوں کہ مسٹر سوری نے میرے دروازے پر دستک دی۔‘
عابد سوری کا کہنا تھا کہ ’جب کبھی بھی پانی کی قلت ہوتی ہے تو ہم حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں لیکن یہ صرف حکومت کا ہی نہیں بلکہ پانی کو محفوظ بنانا ہماری بھی ذمہ داری ہے۔‘
وہ اپنے کام کے لیے دوسرے افراد کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کی زندگیوں کو بدل سکیں۔
ان کے مطابق: ’میں ہفتے میں چھ دن، لکھنے، پیٹنگ اور ڈرائنگ کرنے کا کام کرتا ہوں۔ ساتویں روز میں اپنے پڑوس میں لوگوں کو بیدار کرنے اور ان میں تحرک پیدا کرنے کے لیے تھوڑا وقت نکالتا ہوں۔ چونکہ ہر ایک قطرے کی اہمیت ہے اس لیے آپ کو اس کے لیے عظیم منصوبوں کی ضرورت نہیں ہے۔‘







