بھارت کی ٹریفک ہیروئین

،تصویر کا ذریعہANKIT SRINIVAS
- مصنف, وکاس پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
ڈورس فرانسس کو بھارتی دارالحکومت دہلی سے ملحق غازی آباد علاقے میں ’ٹریفک ہیروئین‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
مسز فرانسس کوئی پولیس افسر نہیں ہیں لیکن وہ ایک انتہائی بھیڑ والے چوراہے پر روزانہ ٹریفک کا نظام اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہیں۔
یہ چوراہا ان کے لیے مخصوص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں چھ سال قبل سنہ 2010 میں ان کی بیٹی نکی ایک سڑک سانحے میں ہلاک ہو گئی تھی۔
جب مسز فرانسس وہاں کی ٹریفک کو سنبھال رہی ہوتی ہیں تو وہ پر اعتماد نظر آتی ہیں اور ٹریفک ان کے کنٹرول میں ہوتی ہے۔
اس چوراہے پر موجود پولیس کانسٹیبل کمار پال سنگھ کہتے ہیں: ’مجھے ان کی کہانی معلوم ہے۔ بے غرض خدمت کرتی ہیں۔ میں نے بہت کم ایسے لوگ دیکھے ہیں جن میں ان جتنی ہمت ہو۔ پتہ نہیں وہ ایسی جگہ ہر دن کیسے آتی ہیں جہاں انھوں نے اپنی بیٹی کو گنوا دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہAnkit Srinivas
مسز فرانس کو وہ دن ابھی بھی یاد ہے جب وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ٹک-ٹک پر سواری کر رہی تھیں کہ ایک تیز رفتار موٹر کار نے ٹک ٹک کو ٹکر مار دی۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’وہ مر گئی، میں بچ گئی۔ کاش اس دن ٹریفک کی بہتر نگرانی ہو رہی ہوتی۔‘
انھوں نے کہا کہ یہاں حادثات کے خطرے کو سمجھنا بہت آسان ہے کہ بھیڑ بھرے اس چوراہے پر نگرانی کی عدم موجودگی میں ڈرائیور لاپروا ہو جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب مسز فرانسس اس چوراہے پر ہوتی ہیں تو ڈرائیور ان کی بات مانتے ہیں اور ٹریفک منظّم طور پر نظر آتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAnkit Srinivas
بعض وقت وہ ان کے ساتھ سخت ہو جاتی ہیں اور لاٹھی سے لاپروا راہ گیر اور ڈرائیوروں کی خبر بھی لیتی ہیں۔
انھوں نے بتایا: ’یہ کرتے ہوئے مجھے چھ سال سے زیادہ ہو گئے۔ میرا مقصد جان بچانا ہے کہ پھر کوئی عورت اپنی بیٹی، شوہر یا بیٹا نہ گنوائے۔ یہی میں کر رہی ہوں اور جب تک جسم میں قوت ہے کرتی رہوں گي۔‘







