بھارت کی ٹریفک ہیروئین

ڈورس گذشتہ چھ سال سے روزانہ ایک چوارہے پر آکر ٹریفک کو منظم کرتی ہیں

،تصویر کا ذریعہANKIT SRINIVAS

،تصویر کا کیپشنڈورس گذشتہ چھ سال سے روزانہ ایک چوارہے پر آکر ٹریفک کو منظم کرتی ہیں
    • مصنف, وکاس پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

ڈورس فرانسس کو بھارتی دارالحکومت دہلی سے ملحق غازی آباد علاقے میں ’ٹریفک ہیروئین‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

مسز فرانسس کوئی پولیس افسر نہیں ہیں لیکن وہ ایک انتہائی بھیڑ والے چوراہے پر روزانہ ٹریفک کا نظام اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہیں۔

یہ چوراہا ان کے لیے مخصوص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں چھ سال قبل سنہ 2010 میں ان کی بیٹی نکی ایک سڑک سانحے میں ہلاک ہو گئی تھی۔

جب مسز فرانسس وہاں کی ٹریفک کو سنبھال رہی ہوتی ہیں تو وہ پر اعتماد نظر آتی ہیں اور ٹریفک ان کے کنٹرول میں ہوتی ہے۔

اس چوراہے پر موجود پولیس کانسٹیبل کمار پال سنگھ کہتے ہیں: ’مجھے ان کی کہانی معلوم ہے۔ بے غرض خدمت کرتی ہیں۔ میں نے بہت کم ایسے لوگ دیکھے ہیں جن میں ان جتنی ہمت ہو۔ پتہ نہیں وہ ایسی جگہ ہر دن کیسے آتی ہیں جہاں انھوں نے اپنی بیٹی کو گنوا دیا۔‘

ڈورس نے چھ سال قبل ایک سڑک حادثے میں اپنی بیٹی کھو دی

،تصویر کا ذریعہAnkit Srinivas

،تصویر کا کیپشنڈورس نے چھ سال قبل ایک سڑک حادثے میں اپنی بیٹی کھو دی

مسز فرانس کو وہ دن ابھی بھی یاد ہے جب وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ٹک-ٹک پر سواری کر رہی تھیں کہ ایک تیز رفتار موٹر کار نے ٹک ٹک کو ٹکر مار دی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’وہ مر گئی، میں بچ گئی۔ کاش اس دن ٹریفک کی بہتر نگرانی ہو رہی ہوتی۔‘

انھوں نے کہا کہ یہاں حادثات کے خطرے کو سمجھنا بہت آسان ہے کہ بھیڑ بھرے اس چوراہے پر نگرانی کی عدم موجودگی میں ڈرائیور لاپروا ہو جاتے ہیں۔

جب مسز فرانسس اس چوراہے پر ہوتی ہیں تو ڈرائیور ان کی بات مانتے ہیں اور ٹریفک منظّم طور پر نظر آتی ہے۔

وہ کوئی پولیس اہلکار نہیں لیکن یہ کام وہ بے غرض طور پر کرتی ہیں

،تصویر کا ذریعہAnkit Srinivas

،تصویر کا کیپشنوہ کوئی پولیس اہلکار نہیں لیکن یہ کام وہ بے غرض طور پر کرتی ہیں

بعض وقت وہ ان کے ساتھ سخت ہو جاتی ہیں اور لاٹھی سے لاپروا راہ گیر اور ڈرائیوروں کی خبر بھی لیتی ہیں۔

انھوں نے بتایا: ’یہ کرتے ہوئے مجھے چھ سال سے زیادہ ہو گئے۔ میرا مقصد جان بچانا ہے کہ پھر کوئی عورت اپنی بیٹی، شوہر یا بیٹا نہ گنوائے۔ یہی میں کر رہی ہوں اور جب تک جسم میں قوت ہے کرتی رہوں گي۔‘