پوجا کا حق لینے کے لیے خواتین کا مارچ

اس مہم میں خواتین کو مہاراشٹر میں سوپا شہر کے پاس مندر سے تقریبا 70 کلو میٹر دور ہی روک دیا گيا

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشناس مہم میں خواتین کو مہاراشٹر میں سوپا شہر کے پاس مندر سے تقریبا 70 کلو میٹر دور ہی روک دیا گيا

بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹرا میں پولیس نے سینکڑوں خواتین کو ایک مندر میں جانے سے روک دیا ہے کیونکہ وہاں انھیں پوجا کی اجازت نہیں ہے۔

یہ خواتین مظاہرین شنی شنگناپور مندرکے اندرونی حصے میں پوجا کرنا چاہتی ہیں لیکن انھیں ان کی منزل سے 70 کلو میٹر دور ہی ایک گاؤں میں روک دیا گیا۔

راویتی طور پر اس مندر میں صرف مردوں کے داخلے کی اجازت ہے۔

یہ خواتین اس روایت کو توڑنا چاہتی ہیں جس میں انھیں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ اسے ’خواتین کی تذلیل‘ سے تعبیر کرتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں تقریباً 600 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ خواتین کو وہاں تک پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹر کرایے پر لینے کی اجازت بھی نہیں ملی۔

جوں جوں مظاہرہ زور پکڑتا گیا سوشل میڈیا پر اس کے متعلق گرما گرم بحث نظر آنے لگی اور ٹوئٹر پر ’رائٹ ٹو ورشپ‘ اور ’رائٹ ٹو پرے‘ یعنی عبادت یا پوجا کا حق جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ریاست کے وزیر اعلی دیویندر فڈنوس نے منگل کو کہا کہ اس تنازعے کے حل کے لیے مندر کی انتظامیہ اور خواتین کے گروپ سے بات چیت کی جائے۔

سوشل میڈیا پر رائٹ ٹو پرے، رائٹ ٹو ورشپ جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے رہے

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنسوشل میڈیا پر رائٹ ٹو پرے، رائٹ ٹو ورشپ جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے رہے

انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ’ہندوستانی تہذیب اور ہندو مذہب خواتین کو عبادت کا حق دیتا ہے۔ رسم و رواج میں تبدیلی ہماری روایت رہی ہے۔ پوجا کے معاملے میں تفریق ہماری تہذیب نہیں۔ مندر کی انتظامیہ کو بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنا چاہیے۔‘

خیال رہے کہ احمد نگر میں موجود شنی شنگناپور مندر شنی دیوتا کے نام ہے اور اسے سیارہ زحل یا سنیچر کا اوتار کہا جاتا ہے۔

مظاہرہ کرنے والے گروپ کی سربراہ تروپتی دیسائی نے ایک بھارتی اخبار کو بتایا: ’ہم اس مکروہ رسم کو یوم جمہوریہ کے دن ختم کرنے کے لیے پابند عہد ہیں۔‘

بہر حال مندر کے پجاری اور آس پاس کے رہائشیوں نے اس کوشش کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ وہ مندر کے گرد انسانی گھیرا بنائیں گے تاکہ ان خواتین کو مندر میں داخل ہونے سے روک دیں۔

خواتین کی اس مہم کی سربراہی بھومت رنگ راگنی بریگیڈ کر رہی ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق اس میں ایک ہزار خواتین شرکت کریں گی۔

اس مہم میں شرکت کے لیے بہت سی خواتین سڑک کے ذریعے وہاں پہنچنا چاہتی تھیں لیکن انھیں سوپا شہر کے پاس مندر سے تقریبا 70 کلو میٹر دور ہی روک دیا گيا۔

خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک وہاں سے نہیں جائیں گی جب تک کہ انھیں مندر تک جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔