جب خواتین ایک بڑی کمپنی کے سامنے ڈٹ گئیں

ان خواتین نے اپنے حقوق کے لیے خود آواز اٹھائی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنان خواتین نے اپنے حقوق کے لیے خود آواز اٹھائی ہے
    • مصنف, جسٹن رولٹ
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی، جنوبی ایشیا

یہ ایک غیر معمولی بغاوت کی کہانی ہے۔ چھ ہزار بمشکل سے تعلیم یافتہ خواتین مزدوروں کی کہانی جنھوں نے دنیا کی سب سے طاقتور کمپنیوں میں سے ایک کا ڈٹ کر سامنا کیا۔

ان خواتین نے جنسی امتیاز سے دوچار ایک ملک میں مردوں کے معاشرے کی سیاست اور ٹریڈ یونینوں کو چیلنج کیا اور اپنے حقوق کے لیے خود آواز اٹھائی۔

بلکہ وہ یہ لڑائی جیت بھی گئیں۔

شاید آپ نے ان کی محنت کا پھل پیا بھی ہو۔ یہ خواتین بھارت کی خوبصورت جنوبی ریاست کیرالہ میں ایک بہت بڑے باغ ’کانن دیون ہلز پلانٹیشن‘ میں چائے کی پتیاں چنتی ہیں جس کے ایک حصے کی مالک بھارتی چائے کی کمپنی ٹاٹا ہے۔

احتجاج اس وقت شروع ہوا جب ان خواتین کو ملنے والے بونس کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن اس مسئلے کی جڑیں کہیں گہری ہیں۔

بھارت میں چائے کی پتیاں چننے والوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔ گذشتہ ماہ جب میں نے آسام کی ریاست میں اس صنعت کے بارے میں تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ ان مزدوروں کے حالات کار اور رہن سہن اتنے خراب اور اجرتیں اتنی کم ہیں کہ یہ لوگ اپنے خاندانوں سمیت خراب صحت اور مہلک بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

 ان خواتین کا ایک نعرہ: ’ہم اپنے کندھوں پر چائے اٹھاتی ہیں اور تم پیسہ‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن ان خواتین کا ایک نعرہ: ’ہم اپنے کندھوں پر چائے اٹھاتی ہیں اور تم پیسہ‘

اور لگتا ہے کہ کیرالہ میں بھی حالات کچھ مختلف نہیں ہیں۔

ان خواتین کی ایک شکایت یہ تھی کہ یہ بغیر غسل خانے کے ایک کمرے کی جھونپڑیوں میں رہتی ہیں اور یہ کہ ان کو روزانہ اجرت میں ملنے والے230 روپے کیرالہ میں دہاڑی پر کام کرنے والے دیگر مزدوروں سے آدھی ہے۔

لیکن جب ستمبر میں ان خواتین نے بونس بحال کرنے اور اپنی یومیہ اجرت میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا تو یہ چیلنج صرف ان کی کمپنی کے مالکوں کے لیے نہیں بلکہ ان کی نمائندگی کرنے والے ٹریڈ یونینوں کے لیے بھی تھا۔

خواتین مزدوروں کا کہنا ہے کہ ٹریڈ یونین کے مرد رہنما کمپنی کی انتظامیہ سے ملے ہوئے ہیں اور ان خواتین کو ان کے استحقاق سے محروم رکھ کر خود منافع بخش ملازمتیں حاصل کر لیتے ہیں۔

یہ خواتین مزید کہتی ہیں کہ کچھ سال قبل جب چائے کی قیمتیں گریں اور باغات کے کچھ مالک انھیں چھوڑ گئے تھے تو ٹریڈ یونینوں کے یہ رہنما اپنی ملازمتوں پر بدستور قائم و دائم تھے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ان ٹریڈ یونینوں نے ان کے مردوں کو اپنی بیویوں کی آمدنی شراب پر لٹانے سے نہیں روکا جس سے ان کے بچوں کی تعلیم اور طبی ضروریات متاثر ہو رہی ہیں۔

لیکن ان خواتین نے ٹریڈ یونینوں کے بغیر ایک موثر احتجاجی مہم چلا کر دکھا دیا ہے۔

بھارت میں کم تعلیم یافتہ خواتین نے ایک جنوبی ریاست کے سب سے طاقتور سرمایہ کاروں کا سامنا کیا اور جیت گئیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت میں کم تعلیم یافتہ خواتین نے ایک جنوبی ریاست کے سب سے طاقتور سرمایہ کاروں کا سامنا کیا اور جیت گئیں

جب چھ ہزار خواتین کمپنی کے مرکزی دفتر کے باہر سڑک پر جمع ہوئیں تو انھوں نے دکھایا کہ وہ ایک احتجاج خود بھی منظم کر سکتی ہیں۔ وہ بھی ایسی خواتین جن کے پاس کوئی تحریک چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

وہ اپنے آپ کو ’پیمپی لائے اورومائے‘ کہلاتی ہیں، یعنی خواتین اتحاد۔

اصل میں ان خواتین نے کیرالہ کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ’منار‘ کا محاصرہ کر لیا تھا جس کی وجہ سے علاقے میں تجارت اور سیاحت تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی۔

انھوں نے ٹریڈ یونین کے رہنماؤں کے خلاف کئی نعرے لگائے جو کچھ یوں تھے: ’ہم اپنے کندھوں پر چائے اٹھاتی ہیں اور تم پیسہ‘ اور ’ہم جھونپڑیوں میں رہتی ہیں اور تم بڑے مکانوں میں!‘

جب ٹریڈ یونین کے مرد رہنماؤں نے ان کے احتجاج میں شامل ہونے کی کوشش کی تو انھیں بھگا دیا گیا۔ ایک سابق رہنما پر چپلوں سے حملہ کیا گیا جن کو پولیس نے بچایا۔

ایک واقعے میں خواتین نے ٹریڈ یونین کے دفتروں کے باہر نصب کھمبے بھی گرا ڈالے۔ یہاں تک کہ انھوں نے مقامی سیاست دانوں کو بھی بھگا دیا جو ان کی حمایت کرتے ہوئے نظر آنا چاہتے تھے۔

خواتین کا اصرار تھا کہ جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں کیے جائیں گے وہ احتجاج جاری رکھیں گی۔

پہلے تو چائے کی کمپنی ڈٹی رہی، لیکن نو دن کے احتجاج اور ریاست کے وزیر اعلیٰ کی نگرانی میں طویل مذاکرات کے بعد کمپنی مان گئی۔

یہ ایک شاندار فتح تھی۔ کم تعلیم یافتہ خواتین نے ریاست کے سب سے طاقتور سرمایہ کاروں کا سامنا کیا اور جیت گئیں۔

ان خواتین نے اپنی نمائندگی خود کی اور انتظامیہ کو ان کے 20 فیصد بونس کی بحالی کے مطالبے کو قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔

’اب ہم کسی کو خود سے فائدہ نہیں اٹھانے دیں گی۔ بس بہت ہو گئی‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’اب ہم کسی کو خود سے فائدہ نہیں اٹھانے دیں گی۔ بس بہت ہو گئی‘

دوسری طرف ٹریڈ یونین کے مرد رہنماؤں کو خواتین کے مطالبات کے سامنے اپنی انا چھوڑنی پڑی اور ان کے بنائے ہوئے معاہدے پر دستخط کرنا پڑا۔

لیکن لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

خواتین کی اجرت میں اضافے کا مسئلہ الگ سے طے ہونا تھا اور جب یہ مطالبہ نہیں منظور کیا گیا تو یونین نے 232 روپے سے 500 روپے کے اضافے کی غیر معینہ مہم چلائی۔

یہ یونین کی جانب سے خواتین کی کامیاب مہم میں حصہ لینے اور ان کی حاصل کردہ پیش قدمی پر قبضہ کرنے کی کوشش تھی۔

لیکن ان خواتین نے اس کوشش میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے اور اجرت میں اضافہ کروانے کی اپنی آزاد مہم چلائی ہے۔

اس ماہ کے ابتدا میں کچھ مرد یونین کارکنوں نے مبینہ طور پر خواتین کے احتجاج جلوس پر پتھر پھینکے جس سے چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

لیکن یہ خواتین اپنا احتجاج جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

پیمپی لائے اورومائے کی ایک رہنما لسی سنی نے بھارتی خبروں کی ویب سائٹ ’کیچھ‘ کو بتایا: ’ہمارے پاس گنوانے کو کچھ نہیں ہے۔ بھوک میں مبتلا ہونا ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ ہمیں تو بھوک سے مرنے کی بھی پروا نہیں ہے۔ لیکن اب ہم کسی کو خود سے فائدہ نہیں اٹھانے دیں گی۔ بس بہت ہو گئی۔‘