طالب علم کی خودکشی، دلت رہنما بی جے پی سے ناخوش

 پی ایچ ڈی کے دلت طالب علم روہت ویملا نے 17 جنوری کی رات پھانسی لگا کر خود کشی کر لی تھی

،تصویر کا ذریعہROHITH VEMULA FACEBOOK PAGE

،تصویر کا کیپشن پی ایچ ڈی کے دلت طالب علم روہت ویملا نے 17 جنوری کی رات پھانسی لگا کر خود کشی کر لی تھی

بھارت کے شہر حیدرآباد میں دلت طالب علم روہت ویملا کی خودکشی کے معاملے میں سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ کے رکن سنجے پاسوان نے اپنی پارٹی کے ارکان کے رویے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

<link type="page"><caption> دلت طالب علم کی خودکشی پر احتجاجی مظاہرے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/01/160119_india_dalit_death_protest_zz" platform="highweb"/></link>

انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں حساسیت دکھائی جانی چاہیے تھی اور مقامی رکن پارلیمان ہونے کے ناطے بنڈارو دتاتریا کا براہ راست اس طالب علم کو ‘اینٹی نیشنل‘ کہنا درست نہیں تھا۔

حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے دلت طالب علم روہت ویملا نے 17 جنوری کی رات پھانسی لگا کر خود کشی کر لی تھی۔ وہ اس یونیورسٹی کے ان پانچ طالب علموں میں تھے، جنھیں ہاسٹل سے نکال دیا گیا تھا۔

پاسوان نے کہا کہ یہ مرکزی یونیورسٹی کا معاملہ تھا ایسے میں انسانی وسائل کے وزیر سمرتی ایرانی کو اس مسئلے پر پہلے رائے دینی چاہئے تھی، جبکہ انھوں نے بدھ کو رائے دی۔

پاسوان کا کہنا ہے کہ وہاں کے وائس چانسلر کو فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے جس سے ایک پیغام ملتا

،تصویر کا ذریعہtwitter

،تصویر کا کیپشنپاسوان کا کہنا ہے کہ وہاں کے وائس چانسلر کو فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے جس سے ایک پیغام ملتا

بدھ کو سمرتی ایرانی نے کہا تھا کہ اس معاملے کو نسل پرستی کا رنگ نہیں دینا چاہیے اور وزارت نے جو کیا وہ ایک عمل کے تحت ہی کیا، اس پر رضامندی کے سوال پر پاسوان نے کہا، ’سمرتی ایرانی نے دور سے مداخلت کی اور انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ دلت غیر دلت کا نہیں ہے. میں اسے کوئی سنگین مداخلت نہیں مانوں گا بلکہ ایک رسمی مداخلت ہے۔‘

پاسوان کا کہنا ہے کہ وہاں کے وائس چانسلر کو فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے جس سے ایک پیغام ملتا۔

پارٹی کے اقدم پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’لوگ اگر الگ ہوں گے تو ہماری پارٹی کمزور ہوگی، دلت سماج کو الگ تھلگ کرنا صحیح نہیں ہے. اسی وجہ سے میں نے لوگوں کے بیان سے مطمئن نہیں ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty

ایک سوال پر پاسوان کہتے ہیں، ’میں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو اس معاملے میں ایک بیان دینا چاہیے تھا اس طرح ایک بڑا پیغام جاتا، لیکن انھوں نے کوئی بیان نہیں دیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’وزیر اعظم کے بیان سے اس طالب علم کے خاندان کو اور اس کمیونٹی کو تھوڑی تسلی ملتی۔ پارٹی صدر امت شاہ کو بھی بیان دینا چاہیے تھا جس معاشرے میں اچھا پیغام جاتا۔‘