چین میں نئے عالمی سرمایہ کاری بینک کا قیام

چینی صدر نے کہا کہ بینک کا مقصد ان منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنا ہے جو ’اعلیٰ معیاد اور کم لاگت‘ کے ہوں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچینی صدر نے کہا کہ بینک کا مقصد ان منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنا ہے جو ’اعلیٰ معیاد اور کم لاگت‘ کے ہوں گے

چین کے صدر شی جن پنگ نے ایک نئے بین الاقوامی ترقیاتی بینک کا افتتاح کیا ہے۔

سنیچر کو دارالحکومت بیجنگ میں افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، اس بینک کو امریکہ کی سربراہی میں عالمی بینک کے حریف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جیسا کہ چین عالمی ترقیاتی سرمائے کے حوالے سے غیررسمی قوانین میں تبدیلی کا خواہاں ہے۔

<documentLink href="" document-type=""> چینی معیشت میں سست روی</documentLink>

<documentLink href="" document-type=""> چین میں اقتصادی تبدیلی کا سفر</documentLink>

<documentLink href="" document-type=""> 2016 اقتصادی ترقی کے لیے ’مایوس کن‘</documentLink>

امریکی مخالفت کے باوجود اس کے اتحادی ممالک آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، فلپائن اور جنوبی کوریا نے چین کی بڑھتی ہوئی معیشت کو تسلیم کرتے ہوئے ایشین انفراسٹرکچر انسویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) میں شمولیت اختیار کرنے کی حامی بھری ہے۔

صدر شی جن پنگ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ایشا کی بنیادی انفراسٹرکچر کی معاشی ضروریات بہت زیادہ ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بینک کا مقصد ان منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنا ہے جو ’اعلیٰ معیاد اور کم لاگت‘ کے ہوں گے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیراعظم لی کیکیانک کا کہنا تھا کہ عالمی ترقی کے لیے ایشیا کو بہترین خطے کے طور پر قائم رہنے کے لیے انفراسٹرکچر اور مواصلات پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

ایشیائی بین الاقوامی سرمایہ کاری بینک کی کامیابی چین کی سفارتی فتح ہوسکتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایشیائی بین الاقوامی سرمایہ کاری بینک کی کامیابی چین کی سفارتی فتح ہوسکتی ہے

توقع کی جارہی ہے کہ پہلے پانچ سے چھ برسوں کے دوران اے آئی آئی بی دس سے 15 ارب ڈالر سالانہ قرض فراہم کرے گا اور یہ اپنے آپریشنز کا اغاز سنہ 2016کی دوسری سہ ماہی سے کر دے گا۔

آے آئی آئی بی کے صدر جن لیکن نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اگرچہ ’فی الوقت‘ کوئی مخصوص انفراسٹکچر منصوبوں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

لکسمبرگ کے وزیرخزانہ پیئر گرامیگنا کا کہنا ہے کہ آئی اے اے بی کا قیام ’عالمی معیشت کے دوبارہ توازن لانے کا واضح ثبوت ہے۔‘

عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مقابلے ایشیائی بین الاقوامی سرمایہ کاری بینک کی کامیابی چین کی سفارتی فتح ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ چین عالمی معاشی نظام کی مخالفت کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ اس پر حاوی ہے اور یہ ترقی پذیر ممالک کی صحیح نمائندگی نہیں کرتا۔

توقع کی جارہی ہے کہ پہلے پانچ سے چھ برسوں کے دوران اے آئی آئی بی دس سے 15 ارب ڈالر سالانہ قرض فراہم کرے گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتوقع کی جارہی ہے کہ پہلے پانچ سے چھ برسوں کے دوران اے آئی آئی بی دس سے 15 ارب ڈالر سالانہ قرض فراہم کرے گا

نیپال کی وزارت خزانہ کے جوائنٹ سیکریٹری بیکنتھا آریال کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امید کر رہا ہے کہ اے بی آئی آئی انھیں سڑکوں، ہائیڈروپاور اور شہری تعمیرات سے متعلق منصوبوں کے لیے فنڈ مہیا کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اے آئی آئی بی خاص طور پر انفراسٹرکچر سے متعلق ہے چنانچہ ہم اسے نیپال میں ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کے تعاون سے منصوبوں میں اضافہ سمجھتے ہیں۔‘

چین نے ابتدائی طور پر کل ایک کھرب ڈالر میں سے تقریباً30 ارب ڈالر ادا کیے تھے۔ تاہم سنیچر کو اس کی جانب سے مزید پانچ کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔