امریکی معیشت اور شرح سود کا کھیل

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, اینڈریو واکر
- عہدہ, تجزیہ نگار اقتصادی امور
کیا امریکہ کا مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو بینک امریکہ میں شرحِ سود میں اضافہ کرنے والا ہے؟
اس سوال کا جواب آسان ہے اور وہ ہے ’جی ہاں۔‘
اگر موجودہ وقت اور حالات کو دیکھا جائے تو یہ اضافہ ایک مشکل اقدام ہو گا، مگر آج فیڈرل ریزرو کی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس میں اس بات کا امکان ہے کہ شرح سود میں اضافے کا اعلان ہو۔
مالیاتی بحران کے بدترین دنوں کے آغاز سے فیڈرل ریزرو نے شرح سود ’عملی طور‘ پر صفر رکھی ہے۔ سنہ 2008 میں، لیمین برادرز بینک کے دیوالیہ ہونے کے چند ہفتوں کے بعد سے اس شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
میں نے ’عملی‘ کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کیونکہ فیڈرل ریزرو نے اس دوران شرح سود صفر اور 0.25 پر رکھی، یہ شرح بینکوں کے درمیان فوری طور پر قرض لینے اور دینے کے لیے ہوتی ہے۔
اس وقت فیڈرل ریزرو کو ایک بالکل ہی نئی صورت حال کا سامنا ہے، یعنی یہ کہ وہ جیسے ہی یہ سمجھے کہ ملک کی معیشت مضبوط ہو گئی ہے تو شرح سود میں اضافہ کر دے۔
روزگار کی صورت
لہٰذا کیا اب معیشت اس قابل ہو گئی ہے کہ یہ معمول کے اصولوں کے مطابق کام کرنا شروع کر دے؟

،تصویر کا ذریعہGetty
سنہ 2009 سے یعنی مالیاتی بحران کے بعد سے حالات میں بہتری کا آغاز ہو گیا تھا۔ تب سے امریکی معیشت کی شرحِ نمو 2.2 فیصد رہی ہے۔ اگرچہ یہ کوئی زیادہ شرح نمو نہیں ہے تا ہم اتنی ضرور ہے کہ اس کی وجہ سے اب معیشت کے حجم میں بحران سے پہلے کے حجم میں تقریباً نو فیصد اضافے کی گنجائش ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کا مطلب یہ ہے کہ روزگار کے حالات میں بہتری ہوئی ہے، بےروزگاری کافی کم ہوئی ہے یعنی 5.1۔ اس کے برعکس یورپی ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے جہاں بے روزگاری دوگنی ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق لوگوں کی اوسط آمدن میں توقع کے برعکس اضافہ ہوا ہے۔ روزگار کے بہتر ہوتے ہوئے حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ شرح سود میں اضافہ کیا جائے۔ اگر ایک کمپنی کو ایک ملازم رکھنے کے لیے زیادہ اجرت دینی پڑتی ہے تو اس کا نتیجہ زیادہ افراطِ زر ہوسکتا ہے۔
مگر روزگار کی منڈی کے کچھ پہلو ایسے بھی ہیں جہاں کافی مسائل ہیں۔ مثلاً جزوی ملازموں کی ایک بڑی تعداد، جس میں وہ لوگ شامل ہیں جو جزو وقتی ملازم ہیں اور ایک پوری ملازمت کے خواہاں ہیں اور وہ بھی شامل ہیں جو بے روزگار ہیں اور انھوں نے ملازمت ڈھونڈنا ترک کر دی ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد 10.3 فیصد ہے۔
ایسے بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے، 20 لاکھ سے زیادہ، جو ایک طویل عرصے سے بے روزگار ہیں یعنی وہ گذشتہ چھ ماہ سے بے کار پڑے ہیں۔
اس کے علاوہ افراط زر بھی ہے۔ اس کو ماپنے کا فیڈرل ریزرو کا ترجیحی معیار ’تصرف کے لیے ذاتی اخراجات‘ کا طریقہ ہے جو گذشتہ جولائی میں 0.3 تھا۔ تاہم اگر آپ اس میں سے تیزی سے تبدیل ہونے والی خوراک اور توانائی کی قیمتیں منہا کرلیں تو افراط زر کی شرح 1.2 بنتی ہے۔
فیڈرل ریزرو کے اپنے ضابطہ کار کے مطابق قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے شرحِ افراط زر کا دو فیصد کا ہدف ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہafp getty
لہٰذا تصرف کے اعداد و شمار یہ اشارہ نہیں دیتے ہیں کہ شرحِ سود میں فوری طور پر اضافہ کیا جائے۔
اس کے علاوہ ایک اور اہم نکتہ جو فوری طور پر شرح سود کے اضافے کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے، وہ ہے چین کی معیشت میں سست روی کی وجہ سے عالمی مالیاتی منڈی کی بے یقینی۔
آئندہ مسائل
لیکن امریکہ میں فیڈرل ریزرو کی پالیسی پر تنقید کرنے والے ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ صفر شرحِ سود کی پالیسی کو بہت پہلے ہی ترک کر دینا چاہیے تھا، بلکہ اس پالیسی کو سِرے سے متعارف ہی نہیں کرانا چاہیے تھا۔
سٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور سابق صدر جارج بش کی حکومت میں وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ اہلکار جان ٹیلر کہتے ہیں کہ فیڈرل ریزرو کو شرحِ سود میں اضافہ سنہ 2010 سے شروع کر دینا چاہیے تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ٹیلر رولز‘ کے رہنما اصولوں کے تحت تو ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ ٹیلر رولز کا نام پروفیسر جان ٹیلر ہی کے نام پر رکھا گیا۔ یہ فیڈرل ریزرو کے لیے افراطِ زر اور معیشت کی سرگرمیاں جانچ کر شرحِ سود طے کرنے کے رہنما اصولوں کے فارمولے کا نام ہے۔
فیڈرل ریزیرو کی بے انتہا کم شرح سود کی پالیسی کے کئی اور نقاد بھی ہیں۔ بانڈز کی سرمایہ کاری کے ماہر جو اب جینس کیپیٹل سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ صفر شرحِ سود کی پالیسی ’سرمایہ دارانہ نظام کے اس تاریخی قاعدوں کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہے جو اس کی اساس ہیں، مثلاً پینشن فنڈز، انشورنس کمپنیز، اور بچت کرنے کی خواہش۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر بچت میں کمی ہوگی تو اس کے جڑواں یعنی سرمایہ کاری میں بھی کمی آئے گی اور اس کے ساتھ طویل مدتی پیداواریت بھی زوال کا شکار ہوگی، جس کی کمی نہ صرف امریکہ میں نظر آ رہی ہے بلکہ عالمی معیشت بھی اس کا شکار ہے۔‘
سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن کی حکومت کے ایک اہلکار، ڈیوڈ سٹاک مین کا خیال ہے کہ اس پالیسی نے مالیاتی منڈی میں ایک بڑا بلبلہ پیدا کر دیا ہے۔ وہ فیڈرل ریزرو سمیت دنیا کے کئی مرکزی بینکوں پر مالیاتی عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں پر لاپروائی اور کسی روک کے بغیر عمل درآمد کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
صفر شرحِ سود کی پالیسی کو ابھرتی ہوئی معیشتوں میں مالیاتی عدم استحکام اور زر کے پھیلاؤ کا بھی ذمہ قرار دیا جارہا ہے۔
فیڈرل ریزرو زر کے پھیلاؤ کی پالیسی پر اس وقت عمل درآمد کرتا ہے جب وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ کم شرح سود کے باوجود اہداف حاصل نہیں ہو رہے ہیں۔ زر کے پھیلاؤ کی پالیسی کم شرحِ سود کی پالیسی کا نعم البدل بھی سمجھی جاتی ہے خاص کر جب مرکزی بینک تصرف اور خرچوں میں تیزی لانے اور افراطِ زر کےلیے ایک تحریک دیتا ہے (خصوصاً جب ماہرین سمجھتے ہیں کہ افراطِ زر کی شرح بہت کم ہے)۔
فیڈرل ریزرو کی کم شرحِ سود کی پالیسی اور زر کے پھیلاؤ کے نتیجے میں سرمائے کی امریکہ سے نئی ابھرتی معیشتوں میں منتقلی ہوئی جہاں سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع ملا اور جس کے نتیجے میں وہاں مقامی کرنسیوں اور اثاثوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
زر کے پھیلاؤ میں کمی ہونے اور اب یہ امکانات کہ امریکی شرحِ سود میں اضافہ ہو سکتا ہے، سرمائے کے ان ابھرتی معیشتوں سے واپس امریکہ منتقلی ہو گی کیونکہ اب انھیں امریکہ ہی میں اچھا منافع ملے گا جب فیڈرل ریزیرو شرحِ سود میں اضافے کا اعلان کرتا ہے۔
اچھی خبر
ابھرتی ہوئی معیشتوں کی حکومتیں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرمایہ کاری اور پھر سرمائے کی منتقلی، دونوں ہی کی وجہ سے تشویش کا شکار رہی ہیں۔
عالمی بینک کے ماہر معاشیات کوشک باسو نے اخبار فائنینشل ٹائمز کو بتایا کہ امریکہ کے شرح سود میں اضافے سے ان ابھرتی معیشتوں کی مالیاتی منڈیوں میں ایک ہیجان اور تلاطم پیدا ہو سکتا ہے۔
ان کی گذشتہ ہفتے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ ایک ایسا طوفان پیدا ہو جس میں ان ابھرتی منڈیوں سے وسیع سطح پر سرمائے کی منتقلی کا آغاز ہو جس کے نتیجے میں ان کی اقتصادی ترقی اور مالیاتی استحکام بری طرح متاثر ہو۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ ان میں سے اکثر معیشتیں امریکہ کے شرح سود میں اضافے کے بعد کے حالات سے نبردآزما ہو سکیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
کچھ ماہرین شرحِ سود میں اضافے کے حالات کے بارے میں کافی پر امید نظر آتے ہیں۔ میکسیکو کے مرکزی بینک کے گورنر، آگسٹین کارسٹنز کا کہنا ہے کہ شرحِ سود میں اضافہ امریکی معیشت میں بہتری کا اشارہ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ تو ہمارے لیے ایک بہت اچھی خبر ہے۔‘
اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون کون سے اشارے ہیں جو یہ بتائیں کہ فیڈرل ریزرو کس سمت جائے گا؟
نیو یارک میں فیڈرل ریزرو بینک کے آپریشنز کے صدر، ولیم ڈڈلی نے مالیاتی منڈی میں ممکنہ عدم استحکام کے خدشے کے پیشِ نظر کہا کہ شرحِ سود میں جلد اضافے کےلیے مضبوط عوامل نہیں ہیں تاہم وہ اس میں اضافے کے امکانات کو بھی رد نہیں کرتے ہیں۔
لیکن فیڈرل ریزرو کے نائب چیئرمین، سٹینلے فشر امریکہ کی معیشت اور افراطِ زر کے بارے میں گرم جوشی کا اظہار کرتے ہیں، یہ جلد شرحِ سود میں اضافے کا اشارہ ہے۔
لہٰذا کیا ستمبر کی 17 تاریخ امریکہ کی معیشت میں ایک غیر معمولی دور کے اختتام کا دن سمجھا جائے گا؟
میری شرط تو یہ ہے کہ ممکن ہے کہ ایسا نہ ہو۔ مگر میں نقصان سے بچنے کے لیے اس شرط پر کم رقم لگاؤں گا۔








