سعودی عرب امریکی یقین دہانی سے مطمئن

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب نے کہا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما کی یقین دہانی سے وہ خوش ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جوہری معاہدے سے خلیجی ممالک کو خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔
جمعے کو امریکی صدر براک اوباما اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی ملاقات کے سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک مطمئن ہے کہ عالمی طاقتوں کا ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران اپنے اوپر عائد پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد اپنے ’مذموم مقاصد‘ کے بجائے اپنی تعمیر و ترقی پر توجہ دے گا۔
اس سے قبل جنوری میں تخت سنبھالنے کے بعد امریکہ کے پہلے دورہ کرنے والے شاہ سلمان نے واشنگٹن میں صدر اوباما سے ملاقات میں ایران سے جوہری معاہدے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
خیال رہے کہ سعودی بادشاہ ایک ایسے وقت امریکہ کے دورے پر پہنچے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔
خلیجی ممالک کو خدشات ہیں کہ ایران پر پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں وہ خطے میں عسکریت پسند تنظیموں کی مدد میں اضافہ کر دے گا اور یہ خطے میں عدم استحکام کا باعث بنے گا۔

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی صدر براک اوباما نے ملاقات میں سعودی بادشاہ پر دیا کہ وہ یمن میں امدادی تنظیموں کو بغیر کسی رکاوٹ کام کرنے کی اجازت دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب صدر اوباما نے شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی تھی اور اس کے بعد اس میں مزید تناؤ اس وقت آیا جب انھوں نے ایران سے جوہری معاہدے کی حمایت کی۔
سعودی عرب کو خوف ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں آخر کار ایرانی جوہری بم بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
اس سے پہلے مئی میں سعودی بادشاہ سلمان نے امریکہ کے کیمپ ڈیوڈ میں خلیجی ممالک کے اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی اور ان کے اس اقدام کو امریکی صدر کی سرزنش کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی انتطامیہ نے اس عہد کا عزم کیا ہے کہ وہ ایران کو جوہری معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کا پابند بنائیں گے اور ایران کی خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
امریکہ نے خیلج میں اپنے اتحادیوں کو یقین دہانی کی کوششوں کے تحت ان کے ساتھ دفاعی میزائل نظام پر کام شروع کیا ہے۔ انھیں خصوصی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، ہتھیاروں کی منتقلی کی اجازت دی ہے اور سائبر سکیورٹی کو بہتر کیا ہے۔ اس کے علاوہ وسیع پیمانے پر فوجی مشقیں کی جا رہی ہیں اور ایران کی جانب سے اسلحے کی غیر قانونی ترسیل کو روکنے کے لیے سمندری سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم اپنے خلیجی اتحادیوں کی ان کی ضرورت کے مطابق سیاسی اور فوجی مدد کرنے کے موقف پر قائم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی انتظامیہ کے سینیئر اہلکار نے نیویارک ٹائمز اخبار کو بتایا کہ سعودی عرب کو خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم اور یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے ایک ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کے معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
اس معاہدے میں ترجیح امریکی ایف 15 جنگی جہازوں کے میزائلوں کو دی جائے گی۔
دوسری جانب حقوق انسانی اور امدادی تنظیموں نے یمن میں سعودی اتحاد میں جاری فوجی کارروائیوں کی حمایت کرنے پر امریکہ پر تنقید کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کے اندر انسانی حقوق کی خراب صورتحال پر متعدد بار خدشات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔







