اوباما کو ایران سے معاہدے پر مطلوبہ سینیٹرز کی حمایت حاصل

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی صدر براک اوباما کی حکومت نے ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر ہونے والے معاہدے کی امریکی سینیٹ سے توثیق کے لیے مطلوبہ تعداد میں سینیٹرز کی حمایت حاصل کر لی ہے۔
بدھ کو جب ریاست میری لینڈ کی ڈیموکریٹ سینیٹر باربرا مکولسکی نے اس معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تو وہ ایسا کرنے والی 34ویں سینیٹر بن گئیں۔
امریکی کانگریس اب بھی اس معاہدے کی مخالفت کر سکتی ہے لیکن صدر اوباما کے پاس اب اتنے ووٹ ہیں کہ وہ نامنظوری کی کسی قرارداد کو ناکام بنا سکیں۔
براک اوباما پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ معاہدہ ’ایران کے جوہری ہتھیار کی تیاری کے تمام راستے مسدود کرتا ہے۔‘
سینیٹر باربرا مکولسکی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’کوئی معاہدہ خامیوں سے پاک نہیں ہوتا خصوصاً وہ جو ایرانی حکومت سے کیا گیا ہو۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ ’میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ یہ مشترکہ جامع منصوبہ ہی ایران کو جوہری بم کے حصول سے روکنے کے لیے بہترین دستیاب چیز ہے۔ اسی وجہ سے میں معاہدے کے حق میں ووٹ دوں گی۔‘
حزبِ مخالف کی جماعت ریپبلکن پارٹی اس معاہدے کے خلاف متحد ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ صرف ایران کو شہ دے گا۔
دو ڈیموکریٹ سینیٹرز نیویارک کے چک شومر اور نیو جرسی کے رابرٹ مینڈیز کے علاوہ حکمران ڈیموکریٹ پارٹی کے دیگر کچھ ارکان بھی اس معاہدے کے حق میں نہیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی کانگریس میں اس معاہدے پر رواں ماہ ہی ووٹنگ ہونے والی ہے لیکن وائٹ ہاؤس کو امید ہے وہ مزید سات سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا تاکہ فیلیبسٹر نامی قانونی حق استعمال کیا جا سکے۔
فیلیبسٹر کے تحت اس معاملے پر حتمی ووٹنگ کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی اور نہ ہی صدر اوباما کو ایران سے کیے گئے معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے ویٹو کا حق استعمال کرنا پڑے گا۔
ایران اور چھ عالمی طاقتوں امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کے درمیان مذاکرات کا آغاز سنہ 2006 میں ہوا تھا۔
رواں برس جولائی میں طویل مذاکرات کے بعد فریقین ایک معاہدے پر متفق ہوئے جو رواں برس نومبر تک لاگو ہونا ہے۔
عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیوں میں کمی کرے تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا۔
ایران کی خواہش ہے کہ اس پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں اٹھا لی جائیں اور وہ ہمیشہ سے اصرار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔







