امریکی کانگریس میں ایران کے جوہری معاہدے کے حق میں راہ ہموار

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ میں حزبِ اختلاف کی جماعت ریپبلکن پارٹی کی جانب سے کانگریس میں ایران کے جوہری پروگرام کے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ جسے صدر اوباما کی سفارتکاری کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد صدر اوباما کو ایران کے جوہری پروگرام کے معاہدے کی مخالفت ختم کرنے کے لیے ویٹو کا اختیار استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔
ایران کے جوہری معاہدے سے متعلق قرارداد پر حتمی ووٹنگ کروانے کے لیے ریپبلکن پارٹی کو 60 ووٹ درکار تھے جن میں سے دو کم ہوگئے۔
صدر اوباما کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ووٹنگ قومی سلامتی اور دنیا کی سکیورٹی کے لیے امریکی سفارتکاری کی کامیابی ہے۔
سینٹ میں اقلیتی جماعت کے سربراہ ہیری ریڈ کا کہنا ہے کہ آج ہونے والی پیش رفت بہت واضح، فیصلہ کن اورحتمی ہے اور یہ کہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں وقت کا ضیائع ہیں۔
اپنی پہلی صدارتی مہم کے دوران صدر اوباما نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنے دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ پیشگی شرائط کے بغیر مذاکرات کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیوبا کے ساتھ تعلقات اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو اوباما کی خارجہ پالیسی کا اہم ورثہ قرار دیا جائے گا۔
آئندہ ہفتے صدر اوباما ایران پر عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کی اجازت دیں گے۔
امریکہ میں حزبِ اختلاف کی جماعت ریپبلکن پارٹی جوہری معاہدے کے مخالفت میں یہ دلیل دیتی ہے کہ اس معاہدے سے ایران جلد بم بنانے کے قابل ہو جائے گا۔
سپیکر جان بوہنر نے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کو روکنے، اس میں تاخیر کرنے کے لیے کوششیں کریں گے۔
خیال رہے کہ گذشتہ جمعے کو سعودی عرب نے کہا تھا کہ امریکی صدر براک اوباما کی یقین دہانی سے وہ خوش ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جوہری معاہدے سے خلیجی ممالک کو خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔







