چینی بازار حصص میں شدید مندی، کاروباری سرگرمیاں معطل

،تصویر کا ذریعہAFP
چینی بازار حصص میں سات فیصد تک گراوٹ کے بعد حصص کی خرید و فروخت کا عمل دن بھر کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔
جمعرات کو بازارِ حصص میں کاروبار صرف آدھے گھنٹے ہی جاری رہ سکا اور یہ رواں ہفتے میں دوسرا موقع ہے کہ کاروبار کی معطلی کی نوبت آئی ہے۔
چین کے مرکزی بینک کی جانب سے ملکی کرنسی یوان کی قدر میں کمی کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بعد سرمایہ کار پریشان ہیں۔
چین نے مارکیٹ میں زبردست اتار چڑھاؤ پر قابو پانے کے لیے ’سرکٹ بریکرز‘ نام سے ایک اصول وضع کیا ہے جس کے تحت بازار کھلنے کے 30 منٹ بعد ہی کاروبار روک دیا گیا۔
ان نئے چینی قواعد و ضوابط کے تحت مارکیٹ میں سات فیصد کمی کے بعد حصص کی خریدو فروخت کے عمل کو معطل کر دیا جاتا ہے۔
یہ اقدام گذشتہ برس دسمبر کے ابتدا میں مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں نافذ کیے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
جمعرات کو چینی شیئر انڈیکس 7.2 فیصد تک گر کر 3،284.74 پر پہنچ گيا۔ اس انڈیکس میں شنگھائی اور شینزین کے سٹاک شامل ہیں جن میں ابتدا میں پانچ فیصد تک کی گراوٹ کے بعد 15 منٹ تک کے لیے کاروبار معطل کیا گیا۔
کاروبار رکنے کے بعد چین کی سکیورٹی ریگولیٹری کمیشن نے اعلان کیا کہ بڑے شیئر ہولڈرز نوجنوری سے تین ماہ تک کمپنی کے شیئرز ایک فیصد سے زیادہ نہیں فروخت کر سکتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے بھی سٹاک کے فروخت پر چھ ماہ کی اس طرح کی جو پابندی عائد کی گئی تھی وہ جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔
چین نے اپنی کرنسی یوان کی قدر میں جو کمی کرنے کا اعلان کیا ہے اس سے سرمایہ کاروں میں اس بات کا خوف ہے کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت توقع سے زیادہ سست روی کا شکار ہوسکتی ہے اور اس سے علاقے میں کرنسی کی قدر کم کرنے کا مقابلہ شروع ہوسکتا ہے۔
ٹریڈنگ کمپنی آئی جی سے مارکیٹ پر نگاہ رکھنے والے برنارڈ او کا کہنا ہے کہ لوگوں میں اسی بات کو لے کر تشویس پائی جاتی ہے کہ چین کہیں اپنی کرنسی کی قدر میں اور کمی نہ کر دے اور اس کے اثرات معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہepa
جمعرات کی صبح ہانگ کانگ کے شیئر بازار میں بھی 2.9 فیصد کی گراوٹ درج کی گئي۔
ادھر برینٹ میں کچے تیل کی قیمتیں، ضرورت سے زیادہ سپلائی کے سبب، گذشتہ گيارہ برس میں سب سے کم تر درجہ پر ہیں اور اس سے بھی سرمایہ کاروں کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔
اسی اتار چڑھاؤ کے سبب جاپان کی 225 انڈیکس میں بھی 1.8 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے جبکہ آسٹریلیا کی ایس اینڈ اے ایس ایکس انڈیکس میں بھی دو فیصد کی گرواٹ درج کی گئی ہے۔
بدھ کے روز شمالی کوریا کے جوہری بم دھماکے سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس کے تناظر میں جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں بھی ایک فیصد کی گرواٹ درج کی گئی ہے۔







