چین کے بازارِ حصص میں مندی، کاروباری سرگرمیاں معطل

،تصویر کا ذریعہAFP
چین کے بازارِ حصص میں ڈرامائی انداز میں تیزی سے گراؤٹ کے بعد شیئرز کی خریدو فروخت کا عمل روک دیا گیا ہے۔
بلیو چپ 300 انڈیکس میں سات فیصد تک کمی آئی ہے جبکہ شنگھائی کے انڈیکس میں 6.9 فیصد گراؤٹ آئی۔
زیادہ تر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت کرنے والے شینزین حصص بازار میں سب سے زیادہ کمی آئی اور یہ آٹھ فیصد تک گر گئی۔
پیر کو بازارِ حصص میں کاروبار کے آغاز پر ہی شیئرز کی قدر کی پانچ فیصد کمی کے بعد کاروباری سرگرمیوں کو پندرہ منٹ کے لیے روک دیا گیا تھا۔
تاہم پندرہ منٹ کے بعد دوبارہ کاروبار کا دوبارہ آغاز ہوا تو شیئرز کی گراؤٹ میں کمی کا رجحان جاری رہا اور ٹریڈنگ کے نگراں ادارے کو وقت سے پہلے سٹاکس کی ٹریڈنگ کو ختم کرنا پڑا۔
چین میں بازارِ حصص کے نئے قواعد و ضوابط کے تحت مارکیٹ میں سات فیصد کمی کے بعد حصص کی خریدو فروخت کے عمل کو معطل کر دیا جاتا ہے۔
یہ اقدام گذشتہ برس دسمبر کے ابتدا میں مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں نافذ کیے گئے اور ان پر عمل درآمد پیر چار جنوری سے ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیر کو بازارِ حصص میں مندی کی ایک وجہ مینوفیکچرنگ شعبے کے ایک سروے کی وجہ سے ہوا جس میں چین کی معیشت کے بارے میں مزید مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔
ہانگ کانگ میں چین کے بازارِ حصص میں مندی کا اثر ہانگ کانگ کے بازارِ حصص میں پڑا اور انڈیکس 2.7 فیصد کمی پر بند ہوا۔
اس کے علاوہ ایشیا کے دیگر حصص منڈیوں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے جس میں جاپان کا نیکئی 225 انڈیکس میں 3.1 فیصد مندی پر بند ہوا۔
دوسری جانب سعودی عرب میں شیعہ رہنما کو دی جانے والی موت کی سزا پر عمل درآمد کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور فی بیرل تیل کی قیمت تین فیصد اضافے کے بعد 38.40 ڈالر ہو گئی ہے۔







