بھارت اور روس میں دفاعی امور پر اہم بات چیت

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور روس کے صدر ولادی میر پوتن کے درمیان ماسکو میں جمعرات کو سٹریٹیجک شراکت، جوہری توانائی، اقتصادی اور دفاعی امور پر بات چیت ہونی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی گذشتہ روز روس کے دو روزہ دورے پر ماسکو پہنچے اور صدر پوتن کے ساتھ عشائیے میں شرکت کی۔
بھارت اور روس کے درمیان اس طرح کی دو طرفہ بات چیت سنہ 2000 کے بعد سے ہر سال ہوتی رہی ہے۔
بھارت اور روس سرد جنگ کے دور میں ایک دوسرے کے قریبی اتحادی تھے لیکن حالیہ کچھ برسوں میں یہ تعلقات ذرا پیچیدہ نوعیت اختیار کر گئے ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان جہاں تقریباً دس ارب ڈالر کی سالانہ باہمی تجارت ہوتی ہے، وہیں روس بھارت کو فوجی ساز و سامان مہیا کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
لیکن اس برس جب روس نے پاکستان کو حملہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ہیلی کاپٹر فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تو بھارت نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
روس بھی بھارت کے اس فیصلے سے ناراض تھا کہ اس نے روسی جنگی طیاروں کے بجائے امریکہ کے اپاچی ہیلی کاپٹر اور فرانس کے رفائل جنگی طیاروں کو ترجیح دی ہے۔
بھارت کے دفاعی تجزیہ کار ادے بھاسکر مودی کے ماسکو کے اس سفر کو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم موقعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق مودی کے اس پہلے روسی سفر کو سیاسی، اقتصادی اور سٹریٹجک طور بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ بھارت اور روس کے درمیان فوجی تعلقات کا جائزہ لینے کا ایک خاص موقع ہے۔
ادے بھاسکر کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کےدفاعی اور سٹریٹجک تعلقات کافی اہم ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ بھارت کی تینوں افواج کی سپلائی کا سات فیصد روس سے حاصل ہوتا ہے۔
بھارت کے پاس موجود ٹینک، جنگی طیارے، آبدوزیں اور دیگر جتنے بھی تباہ کرنے والے ہتھیار ہیں، وہ سب بھارت نے روس سے لیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
روس کے لیے بھی بھارت اس لیے بہت اہم ہے کیونکہ بھارت ہتھیار درآمد کرنے والا دنیا کا بڑا ملک ہے۔
بھارت اور روس کے درمیان جن اہم سٹریٹجک معاہدے پر بات ہو رہی ہے اس میں ایک جنگی بحری جہاز پر دستخط شامل ہیں۔ اینٹی میزائل ڈیفینس سسٹم پر بھی بات ہونی ہے۔
جوہری آبدوز اور برہموز میزائل جیسی صلاحیتوں کی ترقی میں روس کے ساتھ شراکت داری اہم رہی ہے۔







