’پابندیاں اٹھنے پر مزید فعال کردار ادا کر سکتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہMEHR

ایران کی نائب صدر اور ملک کے شعبۂ ماحولیات کی سربراہ معصومہ ابتکار کا کہنا ہے جب ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی تو ان کا ملک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بڑے پیمانے پر کمی کر سکے گا۔

عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کے لیے پیرس میں موجود ایرانی نائب صدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیاں ختم ہونے کے بعد ایران ماحول دوست ایندھن درآمد کرنے کے قابل ہو سکے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جولائی میں عالمی طاقتوں سے جوہری معاہدے کے بعد متعدد یورپی ممالک اور کمپنیوں نے ایران میں شمسی توانائی سمیت ’قابلِ تجدید توانائی‘ کے منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

معصومہ ابتکار نے کہا کہ ’ہم گرین ہاؤس گیسوں میں چار فیصد کمی لائیں گے اور عالمی پابندیوں کے مکمل طور پر خاتمے اور عالمی تعاون کی صورت میں مزید آٹھ فیصد کمی لائی جا سکتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر جوہری معاہدے پر صحیح طریقے سے عملدرآمد ہو جس کے ہم منتظر ہیں، تو پھر ہم گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کے معاملے میں مزید فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

ایرانی مندوب کے مطابق عالمی سطح پر بین الاقوامی کمپنیوں، فرانس اور اٹلی جیسے ممالک، نجی اور کاروباری شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ ایران آ کر ماحول دوست ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔