آئینی اصولوں کو خطرہ لاحق ہے: سونیا گاندھی

انہوں نے کہا کہ اصل بھارتی آئین میں لفظ سیکولر نہیں تھا اور 42 ویں ترمیم کر کے اس میں سیکولر اور سوشلسٹ شامل کیے گئے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنانہوں نے کہا کہ اصل بھارتی آئین میں لفظ سیکولر نہیں تھا اور 42 ویں ترمیم کر کے اس میں سیکولر اور سوشلسٹ شامل کیے گئے

بھارتی پارلیمان کا جمعرات سے سرمائی اجلاس شروع ہوا جس میں بھارتی آئین کے معمار بابا صاحب امبیڈکر کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

اس دوران آئین پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اس وقت آئینی اصولوں کی کھلی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’آج کل آئین کے اصولوں کو ہی خطرہ لاحق ہے۔ گذشتہ چند ماہ میں ہم نے جو مشاہدہ کیا ہے وہ آئینی قدروں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا ’چاہے آئین بذات خود کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، اگر اس کو نافذ کرنے والے لوگ برے ہیں تو پھر آئین بھی برا ہی بن جاتا ہے، اسی طرح اگر آئین اچھا نہ ہو تو بھی اگر اس کے نافذ کرنے والے اچھے ہوں تو وہ اچھا ہوجاتا ہے۔‘

بحث کا آغاز وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے کیا اور انھوں نے بھی بھارت میں جاری بڑھتی مذہبی منافرت کی بحث پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ سیکولرازم کا غلط استمعال بند ہونا چاہیے۔

سونیا کا کہنا تھا کہ آج کل آئین کے اصولوں کو ہی خطرہ لاحق ہے، گذشتہ چند ماہ میں ہم نے جو مشاہدہ کیا ہے وہ آئینی قدروں کی صریحا خلاف ورزی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنسونیا کا کہنا تھا کہ آج کل آئین کے اصولوں کو ہی خطرہ لاحق ہے، گذشتہ چند ماہ میں ہم نے جو مشاہدہ کیا ہے وہ آئینی قدروں کی صریحا خلاف ورزی ہے

ان کا کہنا تھا کہ انگریزی کے لفظ سیکولر کا مطلب عدم مذہبیت نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب غیر فرقہ پرست ہونا ہوتا ہے۔

وزیر داخلہ کے اس بیان پر اپوزیشن کے ارکان نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ اصل آئین میں لفظ سیکولر نہیں تھا اور 42 ویں ترمیم کر کے اس میں سیکولر اور سوشلسٹ لفظ شامل کیےگئے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کا مسودہ تیار کرنے والے کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اس کے حق میں نہیں تھے اسی لیے آئین کے دیباچے میں ان الفاظ کو نہیں شامل کیا تھا۔

مرکزی وزیر داخلہ نے عامر خان کے حالیہ بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے امتیازی سلوک اور ذلت آمیز سلوک سہتے ہوئے بھی ہندوستان چھوڑنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ انھوں نے ملک میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا اور ملک میں پھیلی برائیوں کو دور کرنے کے لیے کام کیا۔