’مودی کا گاندھی سے کبھی موازنہ نہیں کیا‘

،تصویر کا ذریعہALAMY
بھارتی سینسر بورڈ کے سربراہ پہلاج نہالانی نے اپنے میوزک ویڈیو پر ہونے والی تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے وہ تو صرف مستقبل کے بھارت کا تصور کر رہے تھے۔
پہلاج نہالانی پر الزام ہے کہ انھوں نے ویڈیو میں وزیر اعظم نریندر مودی کا مہماتما گاندھی سے موازنہ کیا ہے تاہم انھوں نے اس کی تردید کی ہے۔
سات منٹ طویل اس ویڈیو میں نریندر مودی کی تعریف کی گئی ہے۔ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ بھارت مودی کی قیادت میں ترقی کر رہا ہے۔
اس ویڈیو میں کچھ پرجوش نوجوان بھارتی جھنڈا اٹھائے ’میرا ملک ہے عظیم‘ گیت گا رہے ہیں۔
دوسری جانب اس ویڈیو پر تنقید بھی جاری ہے اور سوشل میڈیا پر اس کا خوب مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس ویڈیو میں بات تو ’میک ان انڈیا‘ کی ہو رہی ہے لیکن شاٹس روس، ماسکو اور فرانس کے ہیں۔
پہلاج نہالانی نے بی بی سی ہندی کو بتایا: ’میں نے نریندر مودی اور مہاتما گاندھی کا موازنہ نہیں کیا۔ صاف بھارت کا خواب باپو کا تھا جو مودی مکمل کر رہے ہیں اور میں ویڈیو میں کہہ رہا ہوں، ہمیں اسے مل جل کر پورا کرنا ہے۔ میں کوئی موازنہ نہیں کر رہا ہوں۔ یہ ان لوگوں کی سوچ ہے جو ملک کی ترقی ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔‘
بھارتی سینسر بورڈ کے سربراہ کی اس ویڈیو میں اونچی عمارتیں، جدید موٹر وے اور سپیس شٹلز کے ساتھ ساتھ بھارت کو ترقی کرتا ہوا بھی دکھایا گیا ہے۔



