بھارتی ترقی کے نئےاعداد و شمار ’مشکوک‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ملک کی معیشت میں گذشتہ برس اکتوبر سے دسمبر کے دوران 7.5 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
لیکن معاشی ترقی کے نئے اعداد اعدادوشمار کے حوالے سے کچھ ابہام پایا جاتا ہے کیونکہ جی ڈی پی کو ماپنے کے طریقہ کار بدل دیاگیا ہے۔
معاشیات کے ماہرین نے متنبہ کیا ہے ان اعدادو شمار کو احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
بھارت کی معیشت کی گذشتہ تین ماہ کی ترقی پر نظر ثانی کر کے اسے 8.2 فیصد دکھائی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے 5.3 فیصد ترقی کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔
بھارت کی شماریات کی وزارت نے رواں برس مارچ کے اختتام تک معاشی ترقی کا ہدف 7.4 فیصد مقرر کیا ہے۔
بھارت میں گذشتہ تین ماہ کی شرح نمو کو 8.2 تک تبدیل کیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے یہ شرح 5.3 فیصد تھی۔
بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس کا نیا فارمولا بین الاقوامی معیار کےنزدیک ترین ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا ڈیٹا دیگر معاشی پیمانوں جس میں بھارت کی صنعتی اور فیکٹری کی پیداوار بھی شامل ہے، سے مطابقت نہیں رکھتا۔
چند معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ اعداد و شمار کو شک کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ایسے وقت جب بھارت کا اپنا مرکزی بینک معیشت کی ترقی میں سست روی کی بات کر رہا ہے ایسے وقت میں ترقی کے نئے اعداد و شمار مشکوک ہو جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایچ ڈی ایف سی کے ماہرِ معاشیات جوتندر کوہل نے بھی اس اعداو شمار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
انھوں نے اعداد و شمار کی ساکھ پر سوالات اٹھائے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے سنہ 1980 کے بعد سے شرح نمو کے تناسب کے ساتھ بھارت کی معاشی ترقی بدترین سست روی کا شکار رہی ہے۔







