بھارت میں ٹیکسی کمپنی کی ’کشتی سروس‘

،تصویر کا ذریعہGetty
بھارت کے شہر چینئی میں ٹیکسی ایپ سروس نے سیلاب میں پھنسے ہوئے افراد کو بچانےکے لیے مفت کشتی ریسکیو سروس شروع کی ہے۔
یہ سروس اولا نامی کمپنی نے شروع کی ہے جو عام طور پر لوگوں کے لیے گاڑیاں فراہم کرتی ہے اور اب کشتیوں کے ذریعہ کھانا اور پانی پہنچانے کے ساتھ ساتھ پھنسے ہوئے افراد کو بھی نکال رہی ہے۔
یہ خیال دراصل سوشل میڈیا میں ایک مذاق کے طور پر شروع ہوا تھا تاہم کچھ دن بعد اب حقیقت بن گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں کئی دنوں سے جاری مسلسل بارش کی وجہ سے اب تک 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارت کے شہر چنائی میں بھی اب تک 10 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
بھارت میں رواں ہفتے کے اختتام پر ایک صارف نے اولا کی بکنگ سکرین کی ایک تصویر شیئر کی جس پر گاڑی کی جگہ ’کشتی‘ کے لیے بٹن دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے دو دن بعد اولا نے یہ سروس شروع کر دی تاہم آپ اس ایپ کے ذریعے کشتی نہیں بلا سکتے۔
کمپنی کے ایک بیان کے مطابق تمل ناڈو کے فائر فائٹروں اور ریسکیو محکمے سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر ان کشتیوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔
ایک کشتی ایک چکر میں پانچ سے نو افراد کو لے جا سکتی ہے۔ اس کشتی میں مسافروں کو خشک رکھنے کے لیے انھیں چھتری بھی فراہم کی جاتی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سروس کم از کم کچھ دن اور جاری رہے گی تاہم موسم کی صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے مزید بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔
تمل ناڈو میں اولا کمپنی کے سربراہ روی تیجا کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہزاروں شہر پھنس چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اولا کی فراہم کردہ کشتیوں کی مدد سے متاثرہ افراد کو محفوظ جگہوں پر پہنچانے کے علاوہ انھیں کھانا اور پانی بھی دیا جائے گا۔
اگرچہ متعدد افراد نے اولا کی مفت کشتی سروس کی تعریف کی ہے تاہم کچھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ صرف تشہیر ہے۔







