اردو شاعر منور رانا نے بھی سرکاری اعزاز واپس کر دیا

،تصویر کا ذریعہMANISH SAANDIILYA
بھارت کے معروف اردو شاعر منور رانا نے بھی بھارت کے موجودہ حالات پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے بطور احتجاج اپنا ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کر دیا ہے۔
منور رانا سے قبل بھارت کے 40 سے زیادہ معروف ادیب اپنے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کر چکے ہیں۔
اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے منور رانا نے کہا کہ وہ یہ ایوارڈ موجودہ حالات کے خلاف بطور احتجاج واپس کر رہے ہیں۔
کچھ دن پہلے ہی منور رانا نے فیس بک پر پوسٹ کیا تھا کہ ایوارڈ واپس کرنے سے حالات نہیں بدلیں گے اور ادیبوں کو اس کے خلاف اپنا قلم اٹھانا ہو گا۔
لیکن اب ایوارڈ واپسی کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یا تو منور رانا ڈر گئے ہیں یا بک چکے ہیں، اگر مجھے بكنا ہوتا تو میں 40 برس پہلے بک گیا ہوتا، اب کون میری قیمت لگائے گا۔ میرے لیے یہ ایوارڈ بوجھ بن گیا تھا۔ بس وہی بوجھ اتارا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ UDAY PRAKASH FACEBOOK BBC IMRAN QURESHI ASHOK VAJPAYEE
انھوں نے کہا: ’یہ حکومت کے خلاف احتجاج نہیں ہے، یہ تو پورے معاشرے کے خلاف احتجاج ہے، لیکن معاشرے کی دیکھ بھال تو حکومت ہی کرتی ہے۔ اگر سو آدمی یہ فیصلہ کریں کہ اس گھر میں گائے یا بھینس کا گوشت ہے یا اس نے لو جہاد کیا ہے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ حکومت یا پھر پولیس کا کوئی کردار ہی نہیں رہ گیا۔‘
یہ پوچھنے پر کہ کیا واقعی ملک میں حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں ادیب مخالفت پر اتر آئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ’حالات ابھی اتنے خراب نہیں ہوئے لیکن تیزی سے انتہائی خراب ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کینسر کا علاج پہلے سٹیج پر ہی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد نہیں۔‘
رانا نے اپنا ادبی ایوارڈ ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل اے بی پی نیوز چینل پر براہ راست نشر ہونے والے ایک پروگرام کے دوران واپس کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا: ’میں یہ ایک لاکھ کا بلینک چیک حکومت کو دیتا ہوں، وہ چاہے تو اسے کسی اخلاق کو بھجوا دیں، کسی كلبرگي، پنسارے کو یا کسی اس مریض کو جو ہسپتال میں موت کا منتظر ہو۔‘
انھوں نے کہا: ’میں نے شاید غلطی سے یہ ایوارڈ لے لیا تھا، میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب زندگی میں کبھی کوئی سرکاری ایوارڈ قبول نہیں کروں گا۔‘
رانا نے کہا: ’لوگ گھما کر بحث کو نریندر مودی پر لے جاتے ہیں لیکن ملک کا ماحول خراب کرنے کے لیے مودی نہیں بلکہ ملک کے لوگ ذمہ دار ہیں۔ نفرت کے اس ماحول کو دور کرنے کی ذمہ داری تمام شہریوں پر ہے۔‘
ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈز کو بطور احتجاج واپس کرنے کی ابتدا مصنف ادے پرکاش نے کی تھی۔ انھوں نے منور رانا کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
اس سے قبل بنارس کے مصنف کاشی ناتھ سنگھ نے اپنا اعزاز واپس کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حال میں بھارت کے بہت سے مصنفین نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے خلاف یا تو ایوارڈ واپس کیے ہیں یا اہم سرکاری اداروں سے ناطہ توڑ لیا ہے۔







