104 ایرانیوں کی میتیں تہران پہنچ گئیں

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب میں حج کے دوران منیٰ میں ہلاک ہونے والے ایرانیوں کے جسدخاکی دارالحکومت تہران پہنچا دیےگئے ہیں۔
سعودی عرب سے ایران سے تعلق رکھنے والے 104 لاشیں واپس لائی گئی ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ منیٰ میں بھگدڑ مچنے سے اس کے کم از کم<link type="page"><caption> 464 شہری ہلاک ہوئے ہیں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151001_iran_hajj_death_toll_hk.shtml" platform="highweb"/></link>۔
دوسری جانب سعودی حکام کا کہنا ہے کہ منیٰ میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 769 ہے تاہم غیرملکی میڈیا اور حکام کی جانب سے یہ تعداد 1000 سے زائد بتائی جارہی ہے۔
ایرانی حکومت منیٰ واقعے کا الزام <link type="page"><caption> سعودی حکام کی ’بدانتظامی‘ پر عائد کرتی ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150926_iran_saudi_arabia_hajj_stampede_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
سنیچر کو تہران میں منعقدہ تقریب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ یہ افسوس ناک واقعہ سب کے لیے ’بڑا امتحان‘ ہے۔
انھوں نے کہا: ’اس واقعے میں، ہماری زبان بھائی چارے اور احترام کی ہے۔‘
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’جب ضرورت پڑی، ہم نے سفارتی زبان کا استعمال کیا۔ اگر ضرورت پڑی تو اسلامی جمہوریہ ایران طاقت کی زبان بھی استعمال کرے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ سعودی حکام کی جانب سے اس حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کے بارے میں نہیں بتایا کہ ان کا تعلق کس کس ملک سے تھا۔
سعودی وزیرخارجہ عدل الجبیر نے ایران پر اس واقعے پر ’سیاست کرنے‘ کا الزام بھی عائد کیا ہے اور ایران سے کہا ہے وہ تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کریں۔







