مرنے والے حاجیوں کی تعداد پر سعودی عرب کی وضاحت

کئی دوسرے ممالک نے بھی کہا کہ انھیں 1090 لاشوں کی تصاویر بھیجی گئی ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکئی دوسرے ممالک نے بھی کہا کہ انھیں 1090 لاشوں کی تصاویر بھیجی گئی ہیں

سعودی عرب کے حکام نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ حج کے دوران منٰی میں بھگدڑ سے ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد 1000 سے زائد ہے۔

نائجیریا کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جدہ کے مردہ خانوں میں 1075 لاشیں بھجوائی گئیں۔ جو ہلاک شدگان کی پہلے بتائی گئی تعداد 769 سے کہیں زیادہ ہے۔

<link type="page"><caption> منیٰ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پر تنازع</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150929_hajj_disaster_death_toll_zs" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’سعودی عرب واقعے کی ذمہ داری قبول کرے اور معافی مانگے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150926_iran_saudi_arabia_hajj_stampede_sh" platform="highweb"/></link>

کئی دوسرے ممالک نے بھی کہا کہ انھیں 1090 لاشوں کی تصاویر بھیجی گئی ہیں۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ان تصاویر میں ایسے نامعلوم افراد بھی شامل ہیں جو بھگدڑ میں ہلاک نہیں ہوئے۔

سعودی حکومت کے ترجمان میجر جنرل منصورالترکی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان میں بعض وہ غیر ملکی لوگ شامل ہیں جو سعودی عرب میں ہی مقیم تھے اور اجازت کے بغیر حج ادا کر رہے تھے۔

ان میں 109 لاشیں ان افراد کی ہیں جو مکہ میں مسجد حرام میں پیش آنے والے کرین حادثے میں ہلاک ہوئے۔

مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں الجھن تب پیدا ہوئی جب بھارت کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے نے اتوار کو کہا کہ سعودی حکام نے ہلاک ہونے والے 1090 افراد کی تصاویر جاری کی ہیں۔

پاکستانی اور انڈونیشیا کے حکام کے مطابق انھیں بھی 1000 سے زائد تصاویر بھیجی گئی ہیں۔

نائجیریا میں حج مشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے یوسف ابراہیم یکاسائی کو بتایا ہے کہ وہ جدہ گئے تھے جہاں لاشوں کو شناخت کے لیے لایا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ 14 ٹرکوں کے ذریعے لاشوں کو جدہ منتقل کیا گیا اور صرف 10 ٹرکوں سے 1075 لاشوں کو اتار کر مردہ خانے منتقل کیا گیا جبکہ چار ٹرکوں میں موجود لاشوں کی تعداد میں بارے میں انھیں اندازہ نہیں۔