منیٰ میں پاکستانی ہلاکتوں کی تعداد نو ہو گئی

پاکستان کی وزارتِ برائے مذہبی امور کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں حج کے دوران بھگدڑ سے مرنے والوں میں سے اب تک آٹھ پاکستانیوں کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ لاپتہ حاجیوں سے رابطے کی کوشش جاری ہے۔
جمعرات کو منیٰ میں رمی کے عمل کے دوران پیش آنے والے اس حادثے میں سعودی حکام کے مطابق 717 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور نے اپنی ویب سائٹ پر مرنے اور زخمی ہونے والے حاجیوں کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے۔ فہرست میں حالیہ اضافہ مخدوم زادہ سید اسد مرتضیٰ گیلانی کا ہے۔
پاکستانی میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق وہ سابق رکن اسمبلی اور مذہبی امور کے پارلیمانی سیکریٹری رہے ہیں۔ وہ سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کے بھتیجے ہیں۔
اس کے علاوہ اسی ویب سائٹ پر 17 زخمیوں کے نام اور دوسرے کوائف بھی درج ہیں۔
اے پی کے مطابق وزارتِ خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر 236 پاکستانی حاجی لاپتہ ہوئے تھے جن میں سے اب تک 86 سے رابطہ ہو چکا ہے جبکہ بقیہ کی تلاش جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ گمشدہ پاکستانیوں کی تلاش کے تمام ممکنہ کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم لازمی نہیں کہ گمشدگی کی وجہ منیٰ کا حادثہ ہی ہو کیوں کہ بہت سے حاجی بھیڑ کی وجہ سے ویسے ہی اپنے خاندانوں سے بچھڑ جاتے ہیں۔
ادھر پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک کے ڈائریکٹر حج ابو عاکف نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ سانحے کے بعد سے اب بھی 316 پاکستانی حجاج کرام لاپتہ ہیں۔
اے پی پی کے مطابق انھوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ تعداد 402 تھی تاہم بعد میں 86 افراد سے پاکستانی حکام رابطہ کرنے میں کامیاب رہے۔
ابو عاکف نے بتایا کہ پاکستانی ڈاکٹر مردہ خانوں میں موجود ہیں جبکہ ان ہسپتالوں سے بھی معلومات لی جا رہی ہیں جہاں زخمیوں کو لے جایا گیا تھا۔







