منیٰ میں پاکستانی ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو گئی

رواں برس دنیا بھر سے 20 لاکھ سے زیادہ افراد حج کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں
،تصویر کا کیپشنرواں برس دنیا بھر سے 20 لاکھ سے زیادہ افراد حج کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں

سعودی عرب میں تعینات پاکستانی سفیر منظور الحق کا کہنا ہے کہ حج کے دوران بھگدڑ سے مرنے والے پاکستانیوں کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔

منظور الحق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہو ے بتایا کہ ابھی تک 11 افراد کے اہلِ خانہ اور ساتھیوں نے اپنے عزیزوں کی موت کی تصدیق کی ہے۔

پاکستانی سفیر کے مطابق سفارت خانے کا عملہ مردہ خانوں کا دورہ کر کے مرنے والوں کی شناخت کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

منطور الحق کہنا تھا کہ امید کی جا رہی ہے کہ آج سعودی انتظامیہ کی جانب سے مرنے والوں کی حتمی فہرست شائع کی جائے گی۔

اگرچہ پاکستانی حجاج کی اموات کی تعداد میں اضافے کو رد نہیں کیا جاسکتا، تاہم لاپتہ پاکستانیوں کے حوالے سے منطور الحق کا کہنا تھا کہ حج میں اکثر لوگ اپنے عزیزوں سے بچھڑ جاتے ہیں اس لیے ضروری نہیں ہے کہ لاپتہ افراد منیٰ کے سانحے سے متاثر ہوئے ہوں۔

اس حوالے سے پاکستانی سفیر نے بتایا کہ کل لاپتہ رپورٹ کیے جانے والے 236 افراد میں سے 86 سےرابطہ ہوگیا تھا۔

بعض ممالک حادثے کا ذمہ دار ناقص انتظامات کو قرار دے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبعض ممالک حادثے کا ذمہ دار ناقص انتظامات کو قرار دے رہے ہیں

پاکستانی سفیر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تمام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور مسلسل سعودی حکام سے رابطے میں ہیں۔

واضع رہے کہ جمعرات کو منیٰ میں رمی کے عمل کے دوران پیش آنے والے اس حادثے میں سعودی حکام کے مطابق 717 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور نے اپنی ویب سائٹ پر مرنے اور زخمی ہونے والے حاجیوں کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے۔ فہرست میں حالیہ اضافہ مخدوم زادہ سید اسد مرتضیٰ گیلانی کا ہے۔

پاکستانی میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق وہ سابق رکن اسمبلی اور مذہبی امور کے پارلیمانی سیکریٹری رہے ہیں۔ وہ سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کے بھتیجے ہیں۔

اس کے علاوہ اسی ویب سائٹ پر 17 زخمیوں کے نام اور دوسرے کوائف بھی درج ہیں۔