بھارتی میں دو برس کے بچے پر چوری کا مقدمہ

،تصویر کا ذریعہZEESHAN QADEER
بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کی پولیس کو اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ایک کم عمر بچے پر چوری کا مقدمہ درج کیا گیا۔
دو سالہ روی اور تین دیگر افراد جن میں سے ایک ان کے رشتہ دار ہیں کے نام پولیس میں درج کی جانے والی شکایت میں شامل تھے۔
اطلاعات کے مطابق منگل کو پولیس نے روی کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس کے بعد ان کے والد انھیں ڈسٹرکٹ کورٹ لے گئے، جہاں انھوں نے اعلیٰ پولیس افسران کو تمام معاملے سے آگاہ کیا۔
اعلیٰ پولیس افسران کی مداخلت کے بعد روی کا نام درج درخواست میں سے ہٹا دیا گیا۔
پولیس کے مطابق چوری کا یہ واقعہ 20 ستمبر کو ضلع ستاپور کے گاؤں بجہریا میں پیش آیا تھا۔
بھارتی خبر رساں ادارے ’پریس ٹرسٹ آف انڈیا‘کے مطابق چوری سے متاثرہ اور دیگر گاؤں والوں کی جانب سے درخواست کی بنیاد پر پولیس نے روی نامی بچے سمیت چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
ان چاروں افرار پر ’چوری‘، ’غیر قانونی طور پر گھر میں گھسنے‘ اور ’بے ایمانی سے چوری کی جائیداد حاصل کرنے‘ کا الزام ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ابتدائی درخواست میں روی کا نام کیوں شامل کیا گیا تھا۔
تین افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے جو اس وقت جیل میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کے قوانین کے مطابق پولیس سات سال سے کم عمر کے بچے کے خلاف مجرمانہ مقدمہ درج نہیں کر سکتی ہے لیکن ماضی میں ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں جن میں پولیس نے ایسا کیا ہے۔
گذشتہ سال اتر پردیش میں ہی ایک سالہ بچے کو ڈرانے دھمکانے کے الزام میں دو پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا تھا







