بھارت نیپال کشیدگی پر بھارتی سفیر کی طلبی

نیپال کی حکومت نے کٹھمنڈو میں بھارتی سفارت کار کو یہ پوچھنے کے لیے طلب کر لیا ہے کہ آخر بھارت اشیائے ضرورت لانے والے ٹرکوں کو نیپال میں داخل کیوں نہیں ہونے دے رہا۔
ادھر نیپال کے جنوبی ترائی کے علاقے میں بسنے والے بھارتی نژاد ’مدھیشیوں‘ کا ملک کے نئے آئین کے خلاف گذشتہ تین ماہ سے جاری احتجاج تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔
مدھیشیوں کا کہنا ہے کہ نیپال کے نئے آئین میں ان کے حقوق کا مناسب خیال نہیں رکھا گیا۔ اس علاقے کی مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے اس کے خلاف احتجاجی تحریک چلا رکھی ہے۔
مظاہرین نے بھارت اور نیپال کی سرحد پر بطور احتجاج راستے مسدود کر دیے ہیں اور ضروری اشیا لانے والے ٹرک اور دیگر گاڑیاں نیپال میں نہیں داخل ہو پا رہیں۔
نیپال کی حکومت نے بھارتی سفارت کار کو اسی سے متعلق استفسار کے لیے طلب کیا ہے کہ آخر بھارت نے اپنے یہاں سے آنے والے ٹرکوں کو نیپال میں داخلے کی اجازت کیوں نہیں دیتا۔
لیکن بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں اس کا نقل و حمل کا عملہ نیپال جانے سے خوف زدہ ہے اس لیے وہ نیپال میں داخل نہیں ہو رہا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مظاہرین کا کہنا ہے کہ بطور احتجاج جمعرات کی رات کو انھوں نے نیپال میں کھلنے والے سرحدی راستوں میں سے ایک اہم راستے کو مسدود کر دیا۔
نیپال میں ترائی کے علاقوں میں رہنے والے لوگ گذشتہ تقریباً 40 دنوں سے ہڑتال پر ہیں اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس دوران تقریباً 46 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کی سرحد سے متصل ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ نیپال کے نئے آئین میں ان کے حقوق کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔
نیپال کے بعض رہنماؤں نے اس بات پر سخت نکتہ چینی کی ہے کہ بھارت نیپال کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور ترائی کے علاقے میں دانستہ طور پر مظاہروں کو ہوا دے رہا ہے۔
گذشتہ اتوار کو ہی نیپال میں نئے آئین کا باقاعدہ نفاذ ہوا تھا۔
اس ہڑتال سے عام لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور کئی علاقوں میں غذائی اشیا اور دیگر ضروری ساز وسامان کی قلت ہوگئی ہے۔







