نیپال میں نئے آئین کے خلاف پر تشدد مظاہرے

،تصویر کا ذریعہBRIJ KUMAR YADAV
نیپال میں ترائی کے علاقوں میں رہنے والے لوگ گذشتہ 39 دنوں سے ہڑتال پر ہیں اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس دوران تقریباً 46 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بھارت کی سرحد سے متصل ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ نیپال کے نئے آئین میں ان کے حقوق کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔
گذشتہ اتوار کو ہی نیپال میں نئے آئین کا باقاعدہ نفاذ ہوا ہے۔
اس ہڑتال سے عام لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور کئی علاقوں میں غذائی اشیا اور دیگر ضروری ساز وسامان کی قلت ہوگئی ہے۔
مظاہرین ہر روز سڑکوں پر ٹائر جلا کر اور جلوس نکال کر احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔
لوگوں کی پریشانی
ترائی کے بیشتر اضلاع میں کرفیو نافذ ہے اور اسے ممنوعہ علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔ اس سے لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس تحریک میں اب تک 46 سے زیادہ بھارتی نژاد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ نیپال کے صدر رام برن یادو نے اتوار کو نیپال کا نیا آئین ملک نافذ کیا تھا۔
بھارتی نژاد لوگوں کا، جنھیں ’مدھیشی‘ کہا جاتا ہے، کہنا ہے کہ نئے آئین میں ان کے حقوق چھین لیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBRIJ KUMAR YADAV
آئین نافذ ہونے کے بعد مدھیشيوں نے اپنا احتجاج اور تیز کر دیا ہے۔ ’سنیوکت لوک تنتر مدھیشی مورچہ‘ نامی پارٹی نے پیر کو وادی کے ضلع ہید کوارٹر پر نئے آئین کو جلا اپنا احتجاج درج کرایا۔
پارٹی کے مرکزی رکن ڈاکٹر وجے کمار سنگھ نے کہا ہے کہ عوام کو اس ہڑتال کے سبب کافی مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے لیکن ان کے مطابق حقوق کے حصول کے لیے کچھ تو کھونا ہی پڑے گا۔
اس دوران نیپال کے سابق صدر اور بائیں بازو کے رہنما پشپ دہل پرچنڈ نے اس معاملے میں بھارت کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
بی بی سی سے ایک خاص بات چیت میں مسٹر پرچنڈ نے کہا کہ آئین سازی کے عمل میں بھارت کا تعاون حاصل رہا ہے اور اس بات کی امید تھی کہ آئین کے نفاذ پر بھارت کی حمایت ملتی رہے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا: ’ہمیں امید تھی کہ بھارت اس پر فخر محسوس کرے گا اور سب سے پہلے بھارت اس کا خیرمقدم کرے گا۔ لیکن بد قسمتی سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ بھارت کو اس حوالے سے بعض تحفظات ہیں اور وہ اس کا دل سے خیرمقدم نہیں کر رہا ہے۔ اس پر ہمیں افسوس ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ترائی کے علاقے میں جو بےچینی ہے اسے بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور ’ہم سب ان کے مسائل کے حل کے لیے پر عزم ہیں۔‘
بھارت نیپال میں نئے آئین کے نفاذ سے خوش نہیں ہے اسی لیے نفاذ سے محض چند روز قبل اس نے اپنے خارجہ سیکریٹری ایس جے شنکر کو کٹھمنڈو روانہ کیا تھا جہاں انھوں نے نیپالی لیڈران سے بات چیت کی تھی۔
بھارت اس آئین کے نفاذ میں تاخیر چاہتا تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ عین تقریب سے قبل بھارتی سفارت کار نے نیپالی وزیراعظم کو فون کیا تھا لیکن بات نہ بن سکی۔







