نیپال میں نئے آئین کا نفاذ

،تصویر کا ذریعہReuters
نیپال میں نئے آئین کا باضابطہ طور پر نفاذ ہونے جا رہا ہے۔ اس آئین کو کئی سالوں سے جاری سیاسی گرماگرمی کے بعد تشکیل دیا گیا ہے۔
اس نئے آئین کے تحت نیپال سات ریاستوں پر مشتمل سیکولر، فیڈرل ریپبلک بن جائے گی۔
تاہم نیپال کو ملک بنانے کی خواہش رکھنے والے بعض گروپوں نے اس آئین کی مخالفت کی ہے۔ جبکہ قومیت پرست گروپوں کو بھی خوف ہے کہ اس کی وجہ سے تفریق شروع ہو جائے گی۔
تھارو اور مادھیشی قومیت پرست گروہوں نے نیپال کے جنوبی علاقوں میں مظاہروں کے ذریعے دو ہفتوں تک انتشار پھیلائے رکھا۔
اس بدامنی کی وجہ سے کم از کم 40 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
حکام کی جانب سے کرفیو اور سکیورٹی فورسز کو نافذ کیا گیا لیکن مظاہروں کی وجہ سے دارالحکومت کھٹمنڈو جانے والی سڑک آمد و رفت کے لیے بند رہی۔
خبر رساں ادارے روئیٹرز سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم سوشیل کوئرالا کے میڈیا مشیر بتایا کہ ’یہ آئین جسے لاگو کیا جا رہا ہے یہ نیپالی عوام کی کئی سالوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔‘
’یہ آئین نیپالی معاشرے کے ہر فرقے کی خواہشات اور مطالبات کا انفرادی اور اجتماعی طور پر احاطہ کرتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نئے آئین کا مطالبہ ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے اٹھایا گیا تھا جن کی دن سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ سنہ 2006 میں امن معاہدے کے ذریعے ہوا تھا۔
نیپال کی کل آبادی تقریباً دو کروڑ 80 لاکھ ہے اور وہ اب بھی اپریل میں انے والے شدید زلزلہ سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







