زلزلے کے بعد ایورسٹ سر کرنا پہلے سے مشکل

اب جب کہ ہم نے تمام تر مشکلات کے بعد رسیاں اور سیرھیاں یہاں لگا دی ہیں تو کوہ پیماؤں کے لیے یہ زیادہ مشکل نہیں ہو گی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشناب جب کہ ہم نے تمام تر مشکلات کے بعد رسیاں اور سیرھیاں یہاں لگا دی ہیں تو کوہ پیماؤں کے لیے یہ زیادہ مشکل نہیں ہو گی
    • مصنف, نوین سنگھ کھڑکا
    • عہدہ, ماحولیات رپورٹر، بی بی سی ورلڈ سروس

نیپال میں زلزلے سے تباہ ہونے والے دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھائی کے راستے کی مرمت کرنے والے ماہر شرپا کوہ پیماؤں کا کہنا ہے کہ انھیں وہاں پڑنے والے ایک نئے بڑے شگاف کو عبور کرنا ہے۔

یہ شرپا کوہ پیما کئی دنوں سے کھمبو بیس کیمپ اور کیمپ ون پر نئے شگافوں میں راستہ بناتے ہوئے موجود ہیں

اس کے علاوہ رواں ہفتے ہی آئس فال ڈاکٹرز نامی ایک ٹیم بھی کیمپ ون پہنچ گئی ہے۔

ٹیم کے لیڈر آنگ کامی شرپا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کیمپ ون اپنی پہلے والی اونچائی سے نیچے آگیا ہے اور کوہ پیماؤں کا بہت سا سامان اور آلات موٹی برف کی تہہ تلے دب چکے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’برف میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ اس علاقے میں برفانی تودوں کے گرنے کا سلسلہ جاری ہے اور شاید اس کی وجہ پہاڑ پر زلزلے کے بعد برف سے بننے والے ڈھلان ہیں۔‘

شرپاؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے بیس کیمپ اور کیمپ ون کے درمیان راستے پر مرمت کا کام مکمل کر لیاگیا ہے جبکہ کیمپ ٹو کے درمیان ایک چھوٹے سے حصے کی مرمت ابھی باقی ہے۔

ان کے مطابق: ’اب جب کہ ہم نے تمام تر مشکلات کے بعد رسیاں اور سیڑھیاں یہاں لگا دی ہیں تو کوہ پیماؤں کے لیے یہ زیادہ مشکل نہیں ہو گی لیکن ہاں یہ ان کے لیے عام کوہ پیمائی کی نسبت تھوڑی سخت ہوگی۔‘

کیمپ ون اپنی پہلے والی اونچائی سے نیچے آگیا ہے اور کوہ پیماؤں کا بہت سا سامان اور آلات موٹی برف کی تہہ تلے دب چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکیمپ ون اپنی پہلے والی اونچائی سے نیچے آگیا ہے اور کوہ پیماؤں کا بہت سا سامان اور آلات موٹی برف کی تہہ تلے دب چکے ہیں

نیپال میں 25 اپریل کو آنے والے زلزلے میں نو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جبکہ ایورسٹ کا بیس کیمپ اس زلزلے کے نتیجے میں گرنے والے برفانی تودوں کی لپیٹ میں آیا تھا اور اس حادثے میں 18 کوہ پیما اور ان کا مددگار عملہ ہلاک ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ اس زلزلے کے بعد آئس فال ڈاکٹرز نامی ٹیم نے پہاڑ کے سروے کا کام شروع کر دیا تھا اور ان کا ارادہ کھمبو آئس فال کے علاقے میں رسیاں نصب کرنے کا تھا۔

زلزلے کے بعد یہاں برف کے تودے گرنے سے تمام رسیاں اور سیڑھیاں تباہ ہو گئی تھیں۔

زلزلے کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ پر پہلی بار مہم جوئی کے لیے ایک جاپانی کوہ پیما 33 سالہ نوبوکازو کوریکی پہلے ہی نیپال پہنچ چکا ہے اور وہ آئندہ ماہ یہ چوٹی سر کرنے کی کوشش کریں گے۔

حکام کے مطابق اس سیزن میں کوہ پیمائی کے لیے اب تک 30 ٹیموں جن میں دو سو سے زائد کوہ پیما شامل نے اجازت حاصل کر رکھی ہے۔

ان میں سے آدھے کوہ پیما ماؤنٹ مناسلو کو سر کرنے کی کوشش کریں گے یہ پہاڑی دنیا کی آٹھویں بلند ترین پہاڑی ہے اور یہ سب سے زیادہ زلزلے کی زد میں آنے والے کھٹمنڈو کے علاقے میں واقع ہے۔