’میں بھی گھڑی کو بم ہی سمجھتی‘

،تصویر کا ذریعہPrashant Ravi
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
آپ کو شاید یقین نہ ہو لیکن یہ سچ ہے کہ دنیا میں سب کی ماں ہوتی ہے۔ تصدیق کرنا چاہیں تو کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی سے پوچھ لیجیے۔ ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میری ماں یہاں بیٹھی ہیں، سب کی ماں ہوتی ہے، ایسا کوئی نہیں جس کی ماں نہ ہو۔‘
یہ الیکشن کا موسم ہے، سیاست دان کبھی کبھی ذرا جذباتی ہوجاتے ہیں۔ راہل گاندھی صرف یہ کہنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کسان اپنی زمین سے ماں کی طرح ہی محبت کرتے ہیں لیکن نریندر مودی کی حکومت کسانوں سے ان کی زمین چھین کر بڑے صنعت کاروں کو دینا چاہتی ہے۔
ادھر بی جے پی کی طرف سے بھی کچھ سیاست دان ہیں جو اپنے مخصوص انداز کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں۔ وزیر ثقافت مہیش شرما اس کی شاندار مثال ہیں اور آج کل کافی فارم میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
گذشتہ ہفتے انھوں نے کہا کہ سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام مسلمان ہونے کے باوجود پکے قوم پرست تھے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے لیے دیر رات تک گھر سے باہر رہنا ہندوستانی ثقافت اور تہذہب کا حصہ نہیں ہے اور یہ ’بھلے ہی دوسرے ملکوں میں ٹھیک ہو، لیکن ہندوستانی تہذیب کا حصہ نہیں ہے۔‘
سوشل میڈیا پر تو مہیش شرما کو سخت تنقید کا سامنا تھا ہی، اب اخبار بھی ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایک انٹرویو میں جب مہیش شرما سے پوچھا گیا کہ کیا وزیر اعظم ان کے نظریات سے اتفاق کرتے ہیں، تو انھوں نے کہا: ’میں ٹیم مودی کا رکن ہوں، وہ ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور ہم اس پر عمل کرتے ہیں۔‘
خود وزیر اعظم جب جون میں بنگلہ دیش گئے تھے، تو انھوں نے کہا تھا: ’عورت ہونے کے باوجود ’بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مستعدی سے کارروائی کی ہے۔‘

خود نریندر مودی ہی بہتر جانتے ہیں کہ ان کے کہنے کا مطلب کیا تھا لیکن سب سے حیرت انگیز بیان بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے دیا ہے جو عرصے سے یہاں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نشانے پر 14 سال کے احمد محمد ہیں جنھیں ’بم‘ بنانے کے شبے میں گذشتہ ہفتے امریکہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ ایک ڈیجیٹل گھڑی بنا کر اپنے ٹیچروں کو دکھانے کے لیے سکول لائِے تھے، ان کی ایک ٹیچر کو لگا کہ یہ گھڑی دیکھنے میں بم جیسی نظر آتی ہے، لہٰذا پولیس کو طلب کیا گیا اور پولیس نے احمد محمد کو ہتھکڑی لگائی اور اپنے ساتھ لے گئی۔‘
امریکی صدر براک اوباما سے لے کر فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ تک بڑی تعداد میں لوگوں نے احمد کا ساتھ دیا۔ اوباما نے انھیں وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی، دنیا کے سرکردہ تعلیمی ادارے ایم آئی ٹی نے کہا کہ اسے احمد جیسے طالب علموں کی تلاش رہتی ہے، گوگل نے کہا کہ وہ جب چاہیں انٹرن شپ کے لیے آ سکتے ہیں۔
لیکن تسلیمہ نسرین نے کہا کہ اگر انھوں نے بھی احمد کی گھڑی دیکھی ہوتی، تو احمد کے اساتذہ کی طرح وہ بھی اسے بم ہی سمجھتیں۔ ’لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ مسلمان بم نصب کرتے ہیں؟ کیونکہ یہ کام وہی کرتے ہیں۔‘







