پہلی گولی ہمیشہ سرحد پار سے چلتی ہے!

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
سن 1971 کی جنگ تو مجھے ٹھیک سے یاد نہیں لیکن گذشتہ 30 برسوں کی شہادت میں دل پر ہاتھ رکھ کر دے سکتا ہوں۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی انڈیا اور پاکستان نے ایک دوسرے کے خلاف بلااشتعال کوئی کارروائی کی ہو!
دونوں امن پسند ملک ہیں، دونوں بقائے باہمی کے اصولوں میں یقین رکھتے ہیں اور دونوں صرف سچ بولتے ہیں اور سچ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس لیے دونوں کی وزارت خارجہ اور ان کے فوجی اہکاروں کے بیانات کی صداقت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
مجھے یاد نہیں کہ دونوں حکومتوں کی جانب سےکبھی کوئی ایسا بیان جاری کیا گیا ہوکہ ” آج ہماری فوجوں نے بلا اشتعال سرحد پار سولین علاقوں پر گولہ باری کی جو مقامی لوگوں کے بھرپور مطالبے پر کئی گھنٹے جاری رہی۔ خوب مزہ آیا۔ زبردست آتش بازی ہوئی۔ دوسری طرف بھاری جانی نقصان ہوا ہے، مرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں اور کئی سکول اور ہسپتال بھی تباہ ہوگئے ہیں، یہ ہی گولہ باری کا مقصد تھا، آخر ٹیکس دہندگان کی خون پسینے کی کمائی یوں ہی تو ضائع نہیں کی جاسکتی۔ اب سرحدوں پر رونقیں بحال ہوگئی ہیں، لوگ اپنے اپنےگھر بار چھوڑ کر رلیف کیمپوں میں جارہے ہیں، جہاں مقامی حکومتوں نے ان کے رہنے اور کھانے کا معقول اور مفت انتظام کیا ہے، کچھ دن وہاں گزاریں گے اور لوٹ آئیں گے۔ ان کا بھی کچھ دل بہل جائے گا۔۔۔اور ہمارے لیے سرحد پر پھر وہی بورنگ انتظار شروع ہوجائے گا، اشتعال کا انتظار کریں یا بالا اشتعال ہی شروع ہو جائیں۔۔۔؟”

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat
لیکن آپ کو معلوم ہی ہے کہ حکومتیں اور فوجیں بہت ذمہ دار ہوتی ہیں، وہ بلا اشتعال کوئی کام نہیں کرتیں، اگر یقین نہ ہو تو عید کے دن سے آج تک دونوں جانب سے جاری کیے جانے والے تمام سرکاری بیانات اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ آپ انڈیا میں ہوں یا پاکستان میں ، پہلی گولی ہمیشہ سرحد پار سے ہی چلتی ہے!
نوبیل ملے گا تو بات کریں گے
جب ملالہ یوسف زئی اور کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طور پر نوبیل امن انعام سے نوازا گیا تو نوبیل کمیٹی اور باقی دنیا کو شاید یہ امید بھی رہی ہوگی کہ ہندوستان اور پاکستان سرحد پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اور دیکھیے، فائرنگ پوری طرح بند تو نہیں ہوئی لیکن کافی کم ضرور ہوگئی ہے۔ لیکن اب نوبیل کمیٹی کے سامنے مشکل یہ ہوگی کہ اگر انڈیا اور پاکستان کو بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر مائل کرنا ہے تو دونوں وزرا اعظم کو بھی پیس پرائز دینا ہوگا۔
ملالہ اور کیلاش ستیارتھی کے بعد نریندر مودی اور نواز شریف کے دلوں میں بھی یہ امید تو جاگی ہوگی، مجموعی طور پر وہ ڈیڑھ ارب لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں، اس سے کم پر نہ مانیں گے نہ انھیں ماننا چاہیے۔ ملالہ نے انھیں تقریب میں مدعو بھی کیا ہے، اسی موقع پر یہ کام بھی کر دیا جائے توبعد میں دوبارہ جانے کا خرچ بھی بچ جائے گا۔
لیکن انھیں اگر یہ انعام دیا بھی جائے تو ٹرائل کی بنیاد پر دیا جانا چاہیے، اگر بات چیت دوبارہ بند کی تو واپس لے لیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہماری گیس بند تو تمہاری بجلی گل

،تصویر کا ذریعہAFP
شاید دونوں ملکوں کو بغل گیر رکھنے کا یہ ہی بہترین طریقہ ہے، یا کم سے کم مشہور ماہر اقتصادیات سوامی ناتھن اییر کا یہی خیال ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو گیس سپلائی کرنے کے بجائے وسطی ایشیا سے پائپ لائن کے ذریعہ گیس ہندوستان لانے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ جہاں تک سکیورٹی کے خدشات کا سوال ہے، تو اس کا آسان حل یہ ہے کہ یہ پائپ لائن چار ہزار میگاواٹ کے ایک بجلی گھر کو بھی گیس سپلائی کرے، آدھی بجلی لاہور کو روشن رکھنے کے لیے استمعال کی جائے اور آدھی انڈیا میں استعمال ہو۔
ان کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے گیس کی سپلائی میں رخنے کا امکان ختم ہوجائے گا۔ گیس بند تو بجلی خود بہ خود بند۔ ہو سکتا ہے کہ اس طرح دونوں ایک دوسرے کے تھوڑا قریب آجائیں۔ جب بجلی نہیں ہوگی تو ٹی وی نہیں چلیں گے لیکن ٹی وی نہیں بھی چلیں گے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ اس سوال کا جواب تو ہمیں معلوم ہی ہے کہ وعدہ خلافی ہمیشہ سرحد پار سے ہوتی ہے۔ اگر آپ ہندوستان میں ہیں تو پہلے گیس بند ہوگی اور اگر پاکستان میں تو بجلی!
دونوں میں سے ایک ضرور سچ بولے گا!







