اس قتل عام کا ذمے دار کون ہے؟

کشمیر میں کنٹرول لائن پر دس روزہ گولہ باری کے سبب ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکشمیر میں کنٹرول لائن پر دس روزہ گولہ باری کے سبب ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کے ایک سرکردہ اخبار نے گذشتہ دنوں بڑی مسرت کے ساتھ سرخی لگائی کہ بھارت نے کنٹرول لائن پر پاکستان کو منھ توڑ جواب دیا ہے۔

اخبار نے اپنی خبر میں لکھا کہ بھارتی فوج کی جوابی کارروائی میں سر حد کے اس جانب بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اخبار کے مطابق بھارتی خفیہ اداروں کا اندازہ ہے کہ پاکستانی فوج شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کر کے دکھا رہی ہے۔

پچھلے دس دنوں سے بھارت اور پاکستان کنٹرول لائن پر آباد غیر مسلح شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دونوں جانب کم از کم 20 افراد مارے جا چکے ہیں اور 50 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے ہیں۔

خوفناک گولہ باری کے درمیان سرحدی گاؤں سے ہزاروں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دونوں ملکوں کی افواج ان سرحدی باشندوں کو تلاش کر رہی ہوں۔

دونوں جانب سے دندان شکن جواب دینے کی باتیں ہو رہیں۔ یعنی یہ کہ آج انھوں نے دوسری جانب سے زیادہ انسانوں کو مار گرایا ہے، ان سے زیادہ بستیاں ویران کی ہیں، ان سے زیادہ لوگوں کو اپاہج اور معذور بنا دیا ہے۔

کبھی کبھی کچھ فوجی بھی مارے جاتے ہیں۔ ہلاک ہونے والے یہ فوجی بھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ ہی رہے ہوتے ہیں۔ ہم میں کسی کو نہیں معلوم ہوتا کہ سرحد سے دور بہار، اتر پردش یا تمل ناڈو کے کسی گاؤں یا کسی قصبے میں کسی کی دنیا کیسے اجڑ گئی۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان واقع کنٹرول لائن دنیا کی سب سے خطرناک سرحد ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبھارت اور پاکستان کے درمیان واقع کنٹرول لائن دنیا کی سب سے خطرناک سرحد ہے

سرحد پر بسنے والوں کو ہر برس دو تین بار موت کا سامنا ہوتا ہے۔ منھ توڑ جواب دینے کا سلسلہ شررع ہوتا ہے۔ کئی بے نام شہری مارے جاتے ہیں۔ ان کی موت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان واقع کنٹرول لائن دنیا کی سب سے خطرناک سرحد ہے۔ اس لائن کے دونوں جانب لاکھوں لوگ آباد ہیں۔ یہ پورا خطہ طویل عرصے سے جنگ کی سی حالت میں ہے۔ لاکھوں شہری انتہائی بے بسی اور خطرناک حالات میں زندہ رہنے کا گر سیکھ گئے ہیں۔ زندگی پوری طرح بے یقینی کی گرفت میں ہے۔

کنٹرول لائن پر تازہ ترین ٹکراؤ سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ فائرنگ کیوں ہوتی ہے؟ اسے کون شروع کرتا ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ اور اب تک اس طرح سینکڑوں تصادموں اور ہزاروں ہلاکتوں سے دونوں ملکوں نے کیا حاصل کیا ہے؟

لیکن جو سب سے اہم سوال ہے وہ یہ کہ سرحدی علاقوں میں جو لوگ مارے گئے ان کا ذمے دار کون ہے؟ بے قصور اور غیر مسلح افراد کو ہلاک کرنے کا دونوں ملکوں کی افواج کے پاس کیا جواب اور کیا جوا ز ہے؟

آخر ان شہریوں کے قتل عام کا ذمے دار کون ہے؟

دونوں جانب کم از کم 20 افراد مارے جا چکے ہیں اور 50 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشندونوں جانب کم از کم 20 افراد مارے جا چکے ہیں اور 50 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے ہیں