’بھارتی فوج کے مزاج بدلے بدلے سے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
برطانوی خبررساں ادارے روائٹرز پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا کہ گیا اگر بھارتی میڈیا اور خاص طور پر ٹی چینل پر یقین کیا جائے تو بھارت کی مغربی سرحد پر ہونے والی جھڑپوں کا ذمہ دار صرف اور صرف پاکستان ہی نظر آئے گا۔
اس کے برعکس اگر پاکستان اور بھارت کے فوجی حکام سے اور دہلی میں سرکاری اہلکاروں سے بات کی جائے تو ان کے مطابق حالیہ جھڑپیں جن میں 20 شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں ان کی وجہ بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں قائم ہونے والی نئی حکومت کا سخت گیر رویہ ہے۔
روائٹرز کے مطابق بھارت کی وزارت داخلہ کے ایک اعلٰی اہلکار کا کہنا تھا کہ: ’ہمیں وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے جو ہدایت ملی ہیں وہ بالکل واضح اور صاف ہیں۔‘
اس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ: ’وزیر اعظم کے آفس کی ہدایات ہیں کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پاکستان کو گہرا اور بھاری نقصان ہو۔‘
نریندر مودی نے گزشتہ جمعرات کو ایک سیاسی جلسے میں کہا کہ جب ایک ہزار بھارتی مارٹر گولے پاکستان پر برسے تو دشمن چینخنے لگا۔
بھارتی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ دشمن کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ وقت بدل گیا اور اب پرانی عادات برداشت نہیں کی جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
حالیہ دنوں میں سرحد کے آر پار فائرنگ اور ماٹر گولوں کا تبادلہ بھارت اور پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی میں ہونے والی سب سے شدید جھڑپیں ہیں۔
بھارتی علاقے میں کم از کم بیس ہزار افراد اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ علاقوں میں امدادی کیمپوں اور سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعہ کو پاکستان سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ ملالہ یوسفزئی اور بھارت میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طور پر نوبیل انعام ملنے کے بعد سرحد پر توپیں اور بندوقیں عارضی طور پر خاموش ہو گئیں۔ لیکن یہ سلسلہ ہفتے کو پھر شروع ہو گیا اور اتوار کو بھی جاری رہا۔
مودی حکومت کا پاکستان کے بارے میں سخت رویہ ان کے حامیوں کی نظر میں اس وجہ سے ہے کہ بھارت پاکستان پر اپنی برتری ثابت کرنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کی فوج سرحد پر فائرنگ کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور ہو جائے۔
یہ وہی حکمت علمی ہے جس پر بھارت اپنے سے کئی گناہ بڑے ہمسائے چین کے خلاف بھی اپنائے ہوئے ہے اور اس کا مظاہرہ حال ہیں میں چین کے صدر کے بھارت کے دوران تبت میں چین اور بھارت کی فوج کے درمیان دیکھنے میں آیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن اس پالیسی سے کشمیر کے متنازع علاقے میں تشدد بڑھنے کا خطرہ ہے۔ بھارت کی حکومت کی اس جارحانہ حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان سنہ 2003 سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہو گیا ہے۔
جنوبی ایشیا کے جوہری صلاحیت رکھنے والے یہ ملک سنہ 1947 میں وجود میں آنے کے بعد سے اب تک کشمیر کے تنازعہ پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔
اس سال مئی میں مودی کی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بھارتی فوجی کمانڈروں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ سرحد پر گشت بڑھا دیں اور اگر سرحد کے پار سے کسی قسم کی کوئی حرکت ہو تو اس کا پوری قوت سے جواب دیا جائے۔
بھارت اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ جب تک پاکستان سرحد پار سے مبینہ در اندازی بند نہیں کرتا اس سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
پاکستان کے ایک سابق فوج اہلکار اکرام سہگل کا کہنا ہے کہ مودی کی حکومت کے اقتدار میں آنے سے پاکستان کو یہی خدشات تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ جھڑپیں آسانی سے کسی ایسی صورت حال پر منتج ہو سکتی ہیں جو بھارت اور پاکستان دونوں کے مفاد میں نہیں ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہELVIS
خطرناک جوا
بھارت شاید اس بات پر جوا کھیل رہا ہے کہ پاکستان کی فوج جو اپنے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف ایک بھرپور جنگ میں مصروف ہے وہ اس وقت اپنی مشرق سرحد پر بھارت کے ساتھ کسی جھگڑے میں الجھانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔
لیکن بھارت کے لیے بھی خطرات کم نہیں ہے۔
بھارتی اخبار انڈین ایکپریس نے جمعہ کو اپنے اداریے میں دل اور دماغ کو ٹھنڈا رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر کشیدگی میں اضافے سے بھارت کی ایک ذمہ دار قوم اور سرمایہ کاری کے ایک لیے موزوں ملک ہونے کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اخبار نے کہا کہ اس سے بھارت کے زیر انتظام میں کشمیر میں ایک مرتبہ پھر علیحدگی کی تحریک زور پکڑ سکتی ہے۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دؤل چلا رہے ہیں۔ اجیت دؤل سابق انٹیلی جنس آفسر ہیں اور بھارت میں چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں کے خلاف اپنے کردار کے باعث مشہور ہیں۔ وہ بہت عرصے سے پاکستان میں مبینہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرنے پر زور دیتے آئے ہیں۔
نئی حکومت میں قومی سلامتی کی اہم ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل وہ روائٹرز کے ساتھ اپنے انٹرویوز میں کہتے رہے ہیں کہ بھارت کو اپنی سلامتی کی بنیادی پالیسی بنانی ہو گی۔ ان کے مطابق اس پالیسی کی اثات دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی نرمی نہ دکھانے پر ہونی چاہیے۔
ایک اعلٰی ترین سیکورٹی اہلکار نے روائٹرز کو بتایا کہ اس سال اگست میں سرحد پر پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے شروع ہونے کے کئی دن بعد دؤل نے وزارتِ داخلہ میں بھارت کی باڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے سربراہ کے ساتھ ایک اجلاس میں سرحد پر تعینات بی ایس ایف کے کمانڈروں کو کھلی چھٹی دینے کا فیصلہ کیا۔
اس سے قبل سرحد پر تعینات بی ایس ایف کے کمانڈر اس بات کی شکایت کرتے تھے کہ سرحد پار سے ہونے والی کسی حرکت کا کسی طرح جواب دیا جائے اس بارے میں انھیں واضح ہدایات نہیں تھیں۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ: ’اعلی حکام چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف انتہائی سخت رویہ اپنائیں اور اس حکومت کام لہجہ پچھلی حکومت سے بالکل مختلف ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہELVIS
ان کے مطابق پچھلی حکومت زبانی کلامی تو پاکستان کے خلاف سختی کا اظہار کرتی تھی۔ سابقہ حکومت کے دور میں وزیر داخلہ اور وزیر دفاع پاکستان کے خلاف سخت بیان بھی دیتے تھے لیکن بی ایس ایف اور بھارتی فوج کو کھلی چھٹی حاصل نہیں تھی۔
پاکستان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے وہ بھارتی فوج کی جارحیت پر حیران ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسے وقت جب پاکستان کی فوج قبائلی علاقوں میں جنگ میں مصروف ہے وہ ایک نیا محاذ نہیں کھولنا چاہتے۔
ان کے مطابق بھارت نیا محاذ کھول کر جان بوجھ کر پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر دباؤ بڑھنا چاہتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ :’بھارت کی طرف سے پیغام بالکل واضح ہے کہ وہ پاکستان کو سبق سکھانا چاہتا ہے۔‘
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سرحد کے قریب رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کے مزاج بدلے بدلے سےہیں۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سرحد پر برقی خار داروں کی باڑ کے قریب کھڑے اکہتر سالہ اتما رام نے کہا کہ: ’اگر پاکستان کی طرف سے ایک گولی آتی تو ہماری فوج چھ گولیاں چلاتی ہے۔ ‘







