پرندوں کے انسانی حقوق

دہلی ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ پرواز کرنا پرندوں کا بنیادی حق ہے

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK

،تصویر کا کیپشندہلی ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ پرواز کرنا پرندوں کا بنیادی حق ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

اگر کسی کے ذہن میں کبھی کوئی کنفیوژن تھی، تو وہ اب دور ہوجانی چاہیے کہ پرندوں کے بھی انسانی حقوق ہوتے ہیں!

دہلی ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ پرواز کرنا پرندوں کا بنیادی حق ہے، انھیں پنجروں میں قید نہیں رکھا جانا چاہیے، پرندوں کو ’عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا بنیادی حق حاصل ہے، ان کے ساتھ ظلم نہیں ہمدردی ہونی چاہیے۔۔۔‘

اگر عدالت واقعی یہ حکم صادر کردیتی ہے تو اس کے دور رس نتائج ہوں گے۔ پھر سوال یہ اٹھےگا کہ کیا پرندوں کے درمیان رنگ و نسل کی بنیاد پر امتیاز کیا جاسکتا ہے؟

کیا کچھ پرندوں کو کھلی صاف ہوا میں پرواز کرنے کا حق ہوگا، وہ جہاں چاہیں گے اڑتے پھریں گے، جس ڈال پر چاہیں گے بیٹھیں گے جس پھل کا چاہیں گے لطف اٹھائیں گے لیکن دوسروں کو کڑھائی میں تلا جائے گا؟

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ابتدا سے ہی چڑیا گھروں کے خلاف ہیں

،تصویر کا ذریعہChirantana Bhatt

،تصویر کا کیپشنجانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ابتدا سے ہی چڑیا گھروں کے خلاف ہیں

اور کیا مچھلیوں کے ساتھ صرف اس وجہ سے زیادتی ہوگی کہ ان کے پر نہیں؟ انھیں کیوں کھلے سمندر میں یا صاف دریاؤں کے پانی میں بے خوف و خطر تیرنے کا حق حاصل نہیں ہونا چاہیے؟

اور باقی جانور؟ گھوڑے، گائے، بھینس، بیل، گدھے۔۔۔ان سب سے کام کرانے یا باندھ کر رکھنے کا حق انسانوں کو کس نے دیا؟ انھیں بھی عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق کیوں حاصل نہیں ہونا چاہیے؟

ہوسکتا ہے کہ عدالت کے حتمی فیصلے کے بعد پرندوں کے بنیادی حقوق کو آئینی شکل دے دی جائے، پھر انسانوں کو بھی یہ مانگ کرنی چاہیے کہ جو حقوق پرندوں کو دیے گئے ہیں، وہ انھیں بھی ملنے چاہئیں۔

ایک سال سے چھٹی نہیں

نریندر مودی نے وزیر اعظم بننے کے بعد سے اب تک کوئی چھٹی نہیں لی ہے

،تصویر کا ذریعہMEAIndia

،تصویر کا کیپشننریندر مودی نے وزیر اعظم بننے کے بعد سے اب تک کوئی چھٹی نہیں لی ہے

عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والوں میں سرِ فہرست وزیر اعظم نریندر مودی کا نام ہونا چاہیے۔ جس ملک میں پرندوں کے حقوق کی اتنی پرواہ کی جاتی ہو، افسوس کہ وہاں وزیر اعظم کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک ہو رہا ہے۔

نریندر مودی اپنے دور اقتدار کا پہلا سال مکمل کرنے والے ہیں اور اس پورے سال میں انھیں ایک دن کی بھی چھٹی نہیں ملی ہے!

یہ سال نریندر مودی کے لیے بہت مصروف ثابت ہوا ہے۔ وہ ’30‘ سال سے رکا ہوا کام نمٹانے کے لیے دن رات لگے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’اگر زیادہ کام کرنا کوئی جرم ہے تو وہ یہ جرم کرتے رہیں گے۔‘

ظاہر ہے کہ ہر ’جرم‘ کی نوعیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کچھ سے دوسروں کو تکلیف پہچتی ہے، جیسے پرندوں کو پنجرے میں قید کرنا، اور کچھ سے قوم کو فائدہ بھی ہوتاہے اور مجرم کو مزا بھی آتا ہے۔ جیسے دن رات کام کرنا۔

راہل گاندھی کو وزیر اعظم سے بہت شکایت ہو سکتی ہے لیکن چھٹی نہ لینے کی بھی شکایت اس میں داخل ہے

،تصویر کا ذریعہINC

،تصویر کا کیپشنراہل گاندھی کو وزیر اعظم سے بہت شکایت ہو سکتی ہے لیکن چھٹی نہ لینے کی بھی شکایت اس میں داخل ہے

نریندر مودی کو اس الزام کا سامنا ہے کہ وہ مشکل سے ہی دلی میں ٹکتے ہیں، صرف ایک سال میں انھوں نے جن ممالک کا دورہ کیا ہے ان میں بھوٹان، برازیل، نیپال، جاپان، امریکہ، برما، آسٹریلیا، فیجی، سیشیلز، ماریشس، سری لنکا، سنگاپور، فرانس، جرمنی، کینیڈا، چین، منگولیا اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔

نیپال وہ دو مرتبہ جاچکے ہیں، لیکن جب کام اتنا زیادہ ہو اور دنیا اتنی بڑی تو یہ یاد رکھنا بھی تو آسان نہیں کہ کہاں کہاں ہو آئے اور کہاں جانا ابھی باقی ہے۔ بہرحال، اگلے مہینے بنگلہ دیش جانا ہے، پھر روس، پھر ترکمانستان، پھر ترکی۔۔۔

کسی وجہ سے راہل گاندھی کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔ وہ اب تک یہ شکایت کر رہے ہیں کہ نریندر مودی چھٹی پر ہندوستان آتے ہیں۔ انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ نریندر مودی کبھی چھٹی نہیں کرتے!

انھیں ہندوستان کو دوبارہ سونے کی چڑیا بنانا ہے تاکہ وہ پھر سے کھلے آسمانوں میں آزادی سے پرواز کر سکے۔