گاندھی ٹورز اینڈ ٹریولز

،تصویر کا ذریعہShiv Joshi
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
آپ کو کب بے معنی زندگی کا نیا مقصد مل جائے، جینے کی ایک نئی راہ، کچھ کر گزرنے کی چاہ، کون جانتا ہے؟
کس نے سوچا ہوگا کہ راہل گاندھی اچانک سیاست کے راک سٹار بن جائیں گے، ایک دن کسانوں کی درد بھری دستانیں سن رہے ہوں گے تو اگلے دن پیدل انتہائی دشوار گزار پہاڑی راستوں کو طے کرتے ہوئے ہندوؤں کے مقدس مقام کیدار ناتھ کا سفر کریں گے۔
اور وہ بھی صرف یہ پیغام دینے کے لیے کہ سیلابی ریلوں کی تباہی کے بعد کوہستانی ریاست اتراکھنڈ اب پوری طرح محفوظ ہے اور سیاحوں اور عقیدت مندوں کے لیے اب ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔
پہلے راہل بولتے نہیں تھے، اب چپ ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ آپ بول رہے ہوں اور لوگ سن رہے ہوں، اس کا الگ ہی نشا ہوتا ہے۔
راہل گاندھی کی کایا پلٹ کے بعد سے مخالف حلقے میں ایک بے چینی سی ہے۔ بی جے پی کے ایک رہنما ساکشی مہاراج نے کہا ہے کہ راہل گاندھی گائے کا گوشت کھاتے ہیں، وہ پاک ہوئے بغیر کیدار ناتھ جائیں گے تو نیپال میں زلزلہ تو آئے گا ہی! ساکشی مہاراج نے ابھی یہ واضح نہیں کیا ہے کہ راہل گاندھی کے ’جرم‘ کی سزا معصوم نیپالیوں کو کیوں مل رہی ہے یا ملنی چاہیے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
بہر حال، راہل گاندھی میں یہ تبدیلی ان کی 56 دن کی چھٹی کے بعد آئی ہے اور سنا ہے کہ بھرپور مطالبے کے پیش نظر اب وہ ایک ٹریول ایجنسی کھولنے پر غور کر رہے ہیں۔
کمپنی کا سلوگن ہوگا: ’ایک چھٹی جو آپ کی زندگی بدل دیگی!‘ یہ 56 دن کا پیکج ٹور ہوگا اور اس میں بی جے پی کے رہنماؤں کو خاص رعایت دی جائے گی، 56 انچ سےکم سینے والے لوگ بھی اس ٹور پر جاسکیں گے لیکن انھیں ٹور پورا ہونے سے پہلے ہی گھر واپس بھیج دیا جائے گا کہ کہیں وہ لوٹتے ہی اپنی ہی پارٹی کی قیادت کو چیلنج کرنا شروع نہ کردیں!
رشوت مانگیں تو منع مت کرنا
دہلی میں جگہ جگہ آج کل یہ بورڈ لگے ہوئے ہیں کہ اگر کوئی افسر آپ سے رشوت مانگے تو منع مت کرنا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مشورہ دہیل کے وزیراعلی اروند کیجریوال کا ہے۔ اگر آپ گاڑی میں ہوں اور پورا اشتہار پڑھنے کے لیے گاڑی روک کر سڑک کے کنارے کھڑے ہونا آپ کے شوق میں شامل نہ ہو، تو یہ مشورہ آپ کو عجیب ضرور لگے گا۔ اشتہار کی دوسری لائن یہ ہے کہ ’پوری بات چیت کی ریکارڈنگ کرلینا، اور دلی سرکار اس افسر کے خلاف کارروائی کرے گی۔‘

سنا ہے کہ دہلی کے سرکاری افسر بھی اس مہم میں بڑھ چڑھ کر تعاون کر رہے ہیں۔جب وہ رشوت لیتے ہیں تو رشوت دینے والے سے احتیاطاً معلوم کر لیتے ہیں کہ بھائی، آپ اپنا سمارٹ فون تو ساتھ لائے ہیں نا؟ جب میں رشوت لوں تو ریکارڈ ضرور کرلینا ورنہ ملک سے بدعنوانی کبھی ختم نہیں کی جاسکے گی!
رشوت دینے والے بھی بہت ہوشیار ہوگئے ہیں کیونکہ رشوت دینا اور لینا دونوں ہی قابل سزا جرم ہیں۔ جب کوئی افسر رشوت لینے کے لیے تیار ہوجاتا ہے تو دل میں یہ خوف رہتا ہے کہیں اس کی جیب میں بھی تو سمارٹ فون نہیں!
دہلی پولیس نے اس مسئلے کا حل تلاش کرلیا ہے۔ اخباروں کے مطابق کچھ تھانوں میں موبائل فون اندر لے جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
اب پولیس اپنا کام سکون سے کر سکے گی!







