جو زیب تن کیے تونے وہ پیرہن مہکے!

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
ایک سوٹ آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بزنس کو گجراتیوں سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا۔ یہ خبر تو آپ تک پہنچ ہی گئی ہوگی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ایک سوٹ تقریباً ساڑھے چار کروڑ ہندوستانی روپے میں نیلام ہوا ہے۔ اتنے پیسوں میں آپ دہلی میں آرام سے تین تین کمروں کے دو فلیٹ خرید سکتے ہیں اور اگر قسمت نے ساتھ دیا تو ایک بڑی گاڑی، کچھ نئے سوٹ اور جشن کا سامان بھی۔
یعنی نریندر مودی کا صرف ایک سوٹ دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی زندگی کے تمام مسائل حل کرسکتا ہے۔
نریندر مودی بھی پکے گجراتی ہیں، کاروبار ان کی رگوں میں دوڑتا ہے۔ اسی لیے اگر اب یہ خبر آئے کہ جب سے سوٹ نیلام ہوا ہے ان کے گھرمیں پرانے کپڑوں کی ڈھونڈ مچی ہوئی ہے تو آپ کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ آخر انھیں بھی تو ریٹائرمنٹ کے بعد کی فکر ہوگی۔
جو جواہر کٹ صدری اور کرتے وہ شاید ایک دو مرتبہ پہن کر پھینک دیا کرتے تھے وہ اب سنھبال کر رکھے جائیں گے۔ اور اگر ان کے گھر کے باہر بھی آپ کو لوگوں کی لمبی قطاریں نظر آئیں تو حیران مت ہوئیے گا، شاید ہی کوئی ایسا ہو جو اب یہ نہ چاہتا ہو کہ وزیر اعظم دس منٹ کے لیے اس کا سوٹ بھی پہن لیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بلکہ اگلے انتخابی منشور میں بی جے پی یہ وعدہ بھی کرسکتی ہے کہ ملک سے غریبی ختم کرنے کے لیے وزیر اعظم ہر غریب کا سوٹ ایک مرتبہ ضرور پہنیں گے۔
لیکن صورت میں ہیروں کے جس بیوپاری نے یہ سوٹ خریدا ہے، سنا ہے کہ وہ تھوڑا پریشان ہیں۔ بولی لگاتے وقت وہ شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ سوٹ کے ساتھ مودی بھی ملیں گے!
لیکن انھیں وزیر اعظم کی مصروفیات کا اندازہ نہیں ہے۔ مودی کو اپنے پرائے سب کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ سنیچر کو وہ اتر پردیش میں تھے، جہاں دو سابق وزرا اعلی ملائم سنگھ یادو اور لالو پرساد یادو کے خاندان شادی کے رشتے میں بندھ رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس تقریب میں مودی کو دیکھ کر بہت سے لوگوں کو حیرت ہوئی ہوگی، لیکن کہتے ہیں کہ سیاست میں نہ کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے اور نہ دوست۔ خاص طور پر جب پارلیمان کا اہم اجلاس شروع ہونے والا ہو اور حکومت کو راجیہ سبھا میں ایسے اہم بل منظور کرانے ہوں جو حزب اختلاف کے تعاون کے بغیر قانون کی شکل اختیار نہیں کرسکتے! خیر رشتے بنتے بگڑتے رہتے ہیں، یہی دنیا کا دستور ہے۔
بدلتے ہوئے رشتوں کی ایک مثال سماجی کارکن انا ہزارے بھی ہیں۔ اب وہ پھر ایک تحریک کے لیے دلّی میں ہیں، اور اس مرتبہ نشانے پر بی جے پی کی حکومت کا وضع کردہ ایک قانون ہے۔
بدعنوانی کے خِلاف تحریک کے وقت بی جے پی اپوزیشن میں تھی اور کانگریس کو یہ سمجھنے میں بہت دیر لگی کہ بھوک ہڑتال پرتو انا ہزارے بیٹھے ہیں لیکن صحت حکومت کی متاثر ہو رہی ہے۔ لیکن بی جے پی کی حکومت نے پہلے سے ہی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ کسانوں کو اگر اس قانون پر اعتراض ہے تو وہ اس میں ترامیم کے لیے تیار ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس مرتبہ کانگریس انّا ہزارے کا استقبال کر رہی ہے۔ ویسے بھی آج کل پارٹی کے پاس نہ پارلیمان میں کوئی خاص کام ہے اور نہ دلی کی ریاستی اسمبلی میں۔ دہلی پر 15 سال حکومت کرنے کے بعد اب اسمبلی کی کارروائی دیکھنے کے لیے بھی پارٹی کے رہنماؤں کو مہمانوں کی گیلری میں بیٹھنا پڑتا ہے! تو کوئی حیرت نہیں کہ کانگریس کو اب انّا کی تحریک اچھی لگ رہی ہے۔ لیکن انّا ہزارے نے صاف کر دیا ہے کہ راہل گاندھی اگر تحریک میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو خوشی سے عام لوگوں کے ساتھ آکر بیٹھ سکتے ہیں۔
سنہ 2011 کی تحریک نے اروند کیجریوال کو سیاست کے قومی سٹیج پر پہنچا دیا تھا، عقلمند کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔ اور اگر یہ خبر سچ ہے کہ راہل گاندھی نے پارٹی کے کام سے چند ہفتوں کی ’چھٹی‘ مانگی ہے جو منظور بھی ہوگئی ہے، تو ہوسکتا ہےکہ وہ جلدی ہی آپ کو انا ہزارے کے ساتھ ’انٹرن شپ‘ کرتے ہوئے نظر آئیں!
اور جہاں تک چھٹی کا سوال ہے، لوگ یہ سوال تو ضرور کریں گے کہ کیا آپ پہلے سے چھٹی پر نہیں تھے، نظر تو کہیں آتے نہیں؟







