’ایک بری لڑکی کہلانے کے لیے کیا کریں‘

،تصویر کا ذریعہStudents Srishti School
انٹرنیٹ پر گذشتہ کچھ دنوں سے ایسا پوسٹر ٹرینڈ کر رہا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ بھارت میں ’ایک بری لڑکی‘ کہلانے کے لیے کیا کرنا ہوتا ہے۔
ریڈٹ اور فیس بک پر شیئر کیے جا رہے اس پوسٹر سے سوشل میڈیا پر ایک بحث شروع ہو گئی ہے۔
بہت سے لوگوں کو یہ پوسٹر پسند نہیں آیا ہے۔ کسی نے ٹویٹ کیا ہے ’#badgirls چارٹ کس نے بنایا ہے نہیں معلوم لیکن یہ المناک ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ سچ کے بہت قریب ہے۔‘
فیس بک پر آئی ایک رائے میں خاندان کی مرضی سے شادی کو بھی خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم سے جوڑا گیا ہے۔ اس رائے میں کہا گیا ہے ’کسی اجنبی سے شادی کرنا ۔۔۔ یہ اچھی لڑکی کی نشانی ہے!‘
ایک نے ٹویٹ کی ’مجھے تو روٹی وغیرہ بنانی آتی ہی نہیں۔ میں جہنم میں جاؤں گی۔‘
مل جل کر بنایا

،تصویر کا ذریعہOther
کچھ لوگ اس پوسٹر میں چھپے طنز کو پہچان نہیں پا رہے ہیں اور اس میں لکھی باتوں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
کیا یہ پوسٹر کچھ پیشہ ورانہ افراد نے انٹرنیٹ پر مشاہدات حاصل کرنے کے لیے بنائے ہیں؟ نہیں، انھیں سکول آف آرٹس، ڈیزائن اینڈ ٹیکنالوجی کے طلبا نے بنایا ہے۔
اسے بنانے والے گروپ میں مرد اور خواتین دونوں ہیں۔ یہ پوسٹر اس گروپ کو ہوم ورک کے طور پر دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیس بک پر ان پوسٹر کو سب سے پہلے شیئر کرنے والے اس گروپ کے رکن فرقان جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی مقبولیت سے وہ حیران رہ ہیں۔
’ہمارا مقصد اسے سماجی پروپیگینڈا بنانا نہیں تھا۔ ہم نے اپنی اسائنمنٹ یا ٹیچر کی طرف سے دیے گئے کام کے طور پر انہیں بنایا تھا۔‘
گروپ نے ایسے کاموں کی فہرست تیار کی جنہیں کرنے کے بعد لڑکے آسانی سے بچ نکلتے ہیں، لیکن لڑکیوں پر ان پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔
یہ پوسٹر اس سے پہلے بنائے گئے ’مثالی لڑکے‘ کے نام سے پوسٹر سے متاثر ہو کر بنایا گیا جو سوشل میڈیا پر پہلے ہی مقبول ہو چکا ہے۔







