بدایوں ریپ: دوبارہ قبرکشائی اور پوسٹ مارٹم کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کی ریاست اترپردیش کے علاقے بدایوں میں دو بہنوں کے قتل کے معاملے پر تازہ پیش رفت ہوئی ہے اور اب دونوں کے اہل خانہ نے لاشوں کو نکال کر ایک بار پھر پوسٹ مارٹم کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔
<link type="page"><caption> بدایوں ریپ کا واقعہ خوفناک تھا: اقوامِ متحدہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/06/140602_un_india_rape_condemns_nj.shtml" platform="highweb"/></link>
اہل خانہ نے یہ مطالبہ ایسے وقت کیا ہے جب حیدرآباد میں واقع لیبارٹری کی طرف سے کیے گئے ڈی این اے ٹیسٹ میں لڑکیوں کے ساتھ ریپ کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ حالانکہ قتل کے بعد مقامی ڈاکٹروں کی طرف سے کیے گئے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں ریپ کی بات کہی گئی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریپ کے بعد زندہ لڑکیوں کو درخت سے لٹکایا گیا تھا۔
چارج شیٹ
معاملے کی تحقیقات مرکزی تفتیشی ادارہ ’سی بی آئی‘ کر رہا ہے جس نے ڈی این اے رپورٹ کے بعد اب ملزمان کے خلاف الزام نامہ یعنی چارج شیٹ داخل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
سی بی آئی نے پوسٹ مارٹم کرنے والے مقامی ڈاکٹروں سے بھی ان کی رپورٹ اور تحقیقات کے بارے میں پوچھ گچھ کی ہے۔ ایجنسی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ پوسٹ مارٹم کی پہلی رپورٹ سے مطمئن نہیں ہیں۔
لڑکیوں کے لواحقین بھی دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سی بی آئی نے ایک نئے میڈیکل بورڈ کی زیر نگرانی پھر پوسٹ مارٹم کرانے کی پیشکش کی تھی۔
مگر جب دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کی نوبت آئی تو لاشوں کو نکالنا ممکن نہیں ہو پایا۔ جس جگہ دونوں بہنوں کو دفن کیا گیا ہے وہاں دریائے گنگا میں طغیانی کے باعث قبریں کئی فٹ پانی کے نیچے جا چکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گنگا کی سطح اب کم ہو رہی ہے لیکن لاشوں کے اتنے دنوں تک پانی کے اندر رہنے کے بعد تحقیقات میں اور بھی مشکلات سامنے آ سکتی ہیں۔
ضلعے کے پولیس افسر اس معاملے میں کچھ بھی بولنے سے اس لیے انکار کر رہے ہیں کیونکہ تفتیش سی بی آئی کر رہی ہے، مگر مقامی پولیس کے ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ گنگا کی سطح گھٹتے ہی لاشوں کو نکالنے کا کام کیا جائے گا۔
سی بی آئی کی ترجمان کنچن پرساد نے ڈی این اے کی رپورٹ میں ریپ کی تصدیق نہ ہونے کی بات قبول تو کی ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ ایجنسی نے کسی کو الزام سے بری نہیں کیا ہے اور قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔
سی بی آئی کو اس معاملے میں چارج شیٹ 25 اگست تک داخل کرنی تھی۔ چونکہ ایجنسی نے ایسا نہیں کیا ہے اس لیے معاملے میں ملزم نامزد کیے جانے والے پانچ افراد کے ضمانت پر رہا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
لواحقین کی مایوسی
لڑکیوں کے اہل خانہ کو ڈی این اے کی رپورٹ سے کافی مایوسی ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک کے والد سوہن لال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایجنسی کی طریقہ کار پر سوال اٹھایا ہے۔
ان کا کہنا ہے: ’جو کپڑے جانچ کے لیے بھیجے گئے تھے وہ ہماری بیٹیوں ہی کے تھے یا نہیں؟ اس پر اب شک ہو رہا ہے۔‘
جن دو بہنوں کا قتل ہوا تھا ان میں سے ایک سوہن لال کے چھوٹے بھائی کی بیٹی بھی تھی۔ ان کے چھوٹے بھائی کا الزام ہے کہ سی بی آئی کے تفتیشی حکام نے لاشوں کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے میں بہت دیر کر دی جبکہ ان کا خاندان اس کا پہلے سے مطالبہ کر رہا تھا۔
وہ کہتے ہیں: ’دیر کرنے کی وجہ سے ہی گنگا کا پانی چڑھ گیا اور قبریں پانی میں ڈوب گئیں۔ اب لاشوں میں کچھ بچا بھی نہیں ہوگا۔ سب کچھ گل گیا ہوگا۔‘
سوہن لال اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد جب ملزمان کو پکڑا گیا تھا تو انھوں نے ریپ کرنے کی بات سب کے سامنے قبول کی تھی۔
وہ کہتے ہیں: ’ملزمان میں سے ایک پپو نے سب کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ وہ ریپ میں شامل تھا مگر اس نے قتل کرنے سے انکار کیا تھا، اب ڈی این اے رپورٹ پر کیسے اعتماد کیا جائے جب ملزم نے خود ریپ کی بات قبول کر لی تھی؟‘
اس معاملے میں مجموعی طور پر پانچ ملزم نامزد کیے گئے ہیں جن میں تین سگے بھائی پپو، اودھیش اور ارویش شامل ہیں جبکہ دو پولیس والوں کو بھی اس معاملے میں ملزم بنایا گیا ہے جن کی شناخت چھترپال اور سرویش کے طور پر کی گئی ہے.







