راز کو راز رہنے دو!

اڑیسہ کے ایک نوجوان نے نریندر مودی کے ڈیزائنر کی معلومات کے حصول کی کوشش کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناڑیسہ کے ایک نوجوان نے نریندر مودی کے ڈیزائنر کی معلومات کے حصول کی کوشش کی
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ معلومات کے حق یا آر ٹی آئی قانون کے تحت ایک معمولی سی درخواست دے کر آپ وزیر اعظم نریندر مودی کے سب سے گہرے راز معلوم کر سکتے ہیں تو یہ آپ کی بھول ہوگی۔

پھر تو آپ آر ٹی آئی کے تحت راہل گاندھی سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ وہ دو مہینوں سے کہاں تھے؟ جہاں بھی تھے وہاں کیا کر رہے تھے؟ کیا سوچ رہے تھے، اور اگر واپس آ کر انھیں کانگریس کی قیادت ہی سنبھالنی تھی توگئے ہی کیوں تھے؟

اڑیسہ کے ایک نوجوان نے راہل کے نہیں وزیر اعظم کے کچھ گہرے راز معلوم کرنے کی کوشش کی تھی۔

انھوں نے وزیر اعظم کے دفتر کو خط لکھ کر معلوم کیا تھا کہ نریندر مودی کے کپڑے کون ڈیزائن کرتا ہے، ان پر کتنا خرچ آتا ہے اور یہ پیسہ کون دیتا ہے؟

پی ایم او کا جواب ہے کہ وزیراعظم کون سے کپڑے پہنتے ہیں، انھیں سیتا کون ہے اور ڈیزائن کون کرتا ہے، ان کے دفتر میں اس کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔ جب ریکارڈ ہی نہیں ہے تو فراہم کیسے کیا جائے؟

بات میں دم تو ہے لیکن اس میں چھپانے کی کیا بات ہے؟ اگر آپ کے پاس ریکارڈ نہیں ہے تو وزیر اعظم سے معلوم کر لیجیے وہ کچھ دنوں کے لیے بیرون ملک سے ہندوستان آئے ہوئے ہیں!

لیکن اس ہفتے ہندوستان آنے والوں میں وہ اکیلے نہیں ہیں، راہل گاندھی بھی آخر کار لوٹ ہی آئے۔

راہل گاندھی نے نریندر مودی کی حکومت پر الزام لگایا ہےکہ وہ غریب کسانوں کی زمین ہڑپ کر اپنے امیر صنعت کار دوستوں کی گہری جیبیں بھر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنراہل گاندھی نے نریندر مودی کی حکومت پر الزام لگایا ہےکہ وہ غریب کسانوں کی زمین ہڑپ کر اپنے امیر صنعت کار دوستوں کی گہری جیبیں بھر رہے ہیں

کانگریس پارٹی کی نوکری بھی بہترین ہے۔ آٹھ ہفتے کی چھٹی ملتی ہے، سال میں جتنی مرتبہ لینا چاہیں لے لیں۔ لیکن یہ ابھی معلوم نہیں ہے کہ خرچ بھی پارٹی ہی اٹھا رہی تھی یا نہیں۔ لیکن اگر آپ پارٹی کے مستقبل کے بارے میں غور کرنے کے لیے تھائی لینڈ گئے ہوں تو اصولاً خرچ بھی پارٹی ہی کو برداشت کرنا چاہیے۔

داؤ پر کانگریس کا مستقبل ہے راہل کا نہیں۔ انھیں تو اور بھی کئی پارٹیوں سے قیادت کی پیش کشیں آ رہی ہیں۔

لیکن جب وہ وطن لوٹنے کے بعد اپنے پہلے جلسے میں پہنچے، تو کانگریس کے سینیئر رہنماؤں نے انہیں دو ٹوک الفاظ میں یہ مشورہ دیا کہ بس اب ادھر ادھر بھاگنا بند کریں، اور ٹک کر پارٹی کی قیادت کریں۔

یہ لیڈر بھی سوالوں کا جواب دیتے دیتے تھک گئے تھے، راہل نظر آئے تو سوچا ہوگا کہ اس سے پہلے وہ دوبارہ چھٹی پر چلے جائیں، انہیں کم سے کم یہ تو بتا دیں کہ پہلے آپ کچھ کام کرتے ہیں پھر چھٹی لیتے ہیں، چلیے اس مرتبہ آپ نے پہلے چھٹی لے لی، اب کچھ کام کیجیے۔ اور کانگریسی پارٹی میں آپ کی نوکری لیڈر کی ہے۔

اور جب انھیں یہ مشورہ دیا جارہا تھا، تو راہل مسکرا رہے تھے، جیسے سوچ رہے ہوں کہ بھائی، یہ بات کسی نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی، میں تو اپنا ’گیسٹ رول‘ سمجھ رہا تھا!

رواں سال ہی نریندر مودی کے نام والا یہ سوٹ چار کروڑ روپے میں نیلام ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرواں سال ہی نریندر مودی کے نام والا یہ سوٹ چار کروڑ روپے میں نیلام ہوا تھا

ہندوستان کی سیاست اچانک بہت دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔ راہل گاندھی نے نریندر مودی کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ غریب کسانوں کی زمین ہڑپ کر اپنے امیر صنعت کار دوستوں کی گہری جیبیں بھر رہے ہیں۔

جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت جو سستے مکان بنائے گی، ان سے غریبوں کو فائدہ ہو گا، ان میں ملک کے سب سے بڑے صنعتی گھرانے ریلائنس کے مالک مکیش امبانی نہیں رہیں گے!

نریندر مودی کی یہی سب سے بڑی خوبی ہے۔ وہ صاف بات کرتے ہیں اور شبے کی گنجائش نہیں چھوڑتے۔ اب مکیش امبانی کو ممبئی میں اپنے دو ارب ڈالر کے گھر میں ہی رہنا پڑے گا، نہ وہ غریبوں کی زمین سے فائدہ اٹھا سکیں گے، نہ ان کے لیے بنائے جانے والے سستے گھروں میں رہ سکیں گے۔ راہل کی سیاست تو شروع ہوتے ہی ختم ہو گئی۔

اب بس ایک سوال باقی رہ جاتا ہے۔ وزیر اعظم کے شاندار کپڑوں کے پیسے کون دیتا ہے اور جب وہ ان کپڑوں کو دو چار مرتبہ پہن لیتے ہیں تو ان کا کیا ہوتا ہے؟

یہ تو آپ کو یاد ہوگا کہ گذشتہ سال ان کا ایک سوٹ چار کروڑ میں بکا تھا، اور یہ رقم ’صاف ہندوستان‘ کی مہم کے لیے دے دی گئی تھی، لیکن نہ ہندوستان ابھی پوری طرح صاف ہوا ہے اور نہ وزیر اعظم کے سارے کپڑے ابھی نیلام ہوئے ہیں۔

یہ کپڑے جاتے کہاں ہیں؟ وزیر اعظم کے دفتر کے پاس تو یہ معلومات ہوگی نہیں، اگر آپ کو معلوم ہو تو ضرور بتائیے گا۔